دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی شرط نہیں، تاہم ازدواجی زندگی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لئے بہتر ہے کہ پہلی بیوی کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی نہ کی جائے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی شرط نہیں، تاہم ازدواجی زندگی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لئے بہتر ہے کہ پہلی بیوی کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی نہ کی جائے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ منعقد ہونے والی علمی نشست منگل، 18 ربیع الاول 1448ھ کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں گزشتہ نشستوں کی طرح معظم لہ نے حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مرد کی دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی کی شرط کے بارے میں فرمایا: دوسری شادی کے صحیح ہونے کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی شرط نہیں ہے، لیکن قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اگر تم عورتوں کے درمیان عدل قائم نہیں کر سکتے تو دوسری شادی سے اجتناب کرو۔ لہٰذا ایسی صورت میں دوسری شادی کرنا مکروہ ہے، حرام نہیں۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: اس سلسلہ میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان اپنی ازدواجی زندگی کو انتشار سے بچانے کے لئے بہتر ہے کہ پہلی بیوی کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی نہ کرے۔
انہوں نے مزید تاکید فرمائی: اکثر ان لوگوں کی ازدواجی زندگی متاثر ہوکر رہ گئی ہے جنہوں نے دو یا تین شادیاں کی ہیں، اسی لئے بہتر ہے کہ ایسا اقدام نہ کیا جائے۔




