تاریخ اسلاممقالات و مضامین

صدرِ اسلام میں خواتین کی مرجعیت: ایک نظرِ ثانی

ان غلط تاریخی تصورات کے برخلاف جن کے مطابق مسلم خواتین کا معاشرے میں کردار محض ثانوی اور حاشیہ تک محدود تھا، شیعہ تاریخ کے حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کے حساس ترین سیاسی اور سماجی ادوار میں متعدد ممتاز خواتین نے باوقار، مضبوط اور مدبرانہ کردار ادا کیا۔

حضرت زینب سلام‌اللہ علیہا اور بانو جدہ یا سوسن جیسی بے مثال خواتین نے شدید سیاسی بحرانوں اور مشکل حالات میں اپنے علم، تقویٰ اور بصیرت کی بنیاد پر شیعوں کی رہنمائی اور اسلامی معاشرے کی ہدایت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور مسلمان خواتین کی اعلیٰ صلاحیتوں کو ثابت کیا۔

اس سلسلہ میں اپنے ساتھی کی رپورٹ کی جانب آپ کی توجہ مبذول کراتا ہوں۔

اسلام کی تاریخ کے روشن ابواب کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ مکتبِ اہلِ بیت علیہم‌السلام میں اعلیٰ ترین انتظامی، سیاسی اور رہنمائی کے منصب تک پہنچنے میں جنس کبھی رکاوٹ نہیں بنی۔

سنہ 260 ہجری میں امام حسن عسکری علیہ‌السلام کی شہادت کے بعد، ایسے حالات میں جب عباسی حکمران حضرت امام مہدی عجل‌اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی شناخت اور شہادت کے لئے پوری شدت سے کوشاں تھے، حضرت امام حسن عسکری علیہ‌السلام کی والدہ ماجدہ بانو جدہ نے غیر معمولی تدبر کے ساتھ شیعہ معاشرے کی قیادت و انتظام کی ذمہ داری سنبھالی۔

معتبر تاریخی منابع کے مطابق، حضرت امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے اپنی شہادت سے قبل اس بافضیلت خاتون کو اپنا وصی مقرر فرمایا تھا تاکہ وہ اپنی حکمت و دانائی کے ذریعہ حضرت ولی عصر عجل‌اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت کو دشمنوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھیں اور شیعوں کی ضروریات اور سوالات کے سلسلے میں پناہ گاہ اور مرجعِ اصلی کا کردار ادا کریں۔

یہ پاکیزہ، پرہیزگار اور بلند مرتبہ خاتون، جنہیں علامہ مجلسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور شیخ عباس قمی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے انتہائی صالح، متقی اور پرہیزگار خاتون کے طور پر بیان کیا ہے، نے نہ صرف غلط دعووں کا مقابلہ کیا اور اندرونی بحرانوں کا مؤثر انتظام کیا بلکہ شیعوں کا سلسلۂ امامت سے رابطہ بھی برقرار رکھا۔

انتظامی اور سیاسی و سماجی قیادت کا یہ اعلیٰ نمونہ اس سے قبل حضرت زینب سلام‌اللہ علیہا کی شاندار سیرت میں بھی نمایاں ہو چکا تھا۔

کربلا کے جان سوز واقعہ اور اس کے بعد، حضرت امام سجاد علیہ‌السلام کی موجودگی کے باوجود، حضرت زینب سلام‌اللہ علیہا نے پیغامِ کربلا پہنچانے، خطابت، اسیرانِ اہلِ بیت کی مدیریت اور امامِ معصوم کی جان کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری سنبھالی۔ یہ ایسا عظیم کردار تھا کہ حضرت امام سجاد علیہ‌السلام نے آپ کو "عالِمَةٌ غَیرُ مُعَلَّمَة” یعنی ’’بغیر کسی استاد کے علم رکھنے والی‘‘ قرار دیا۔

اس طرح کے اہم اور تاریخ ساز کرداروں کا بار بار سامنے آنا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلامی روایت میں بڑی ذمہ داریوں کی اہلیت اور سپردگی کی بنیاد جنس نہیں بلکہ قابلیت، تقویٰ، علم، بصیرت اور تدبر ہے۔

ان عظیم المرتبت خواتین کی سیرت آج کی نسل، بالخصوص مسلمان خواتین کے لئے ایک واضح، عملی اور شناخت ساز نمونہ ہے کہ وہ دینی اقدار سے وابستگی برقرار رکھتے ہوئے انتظامی، علمی اور سماجی میدانوں میں مؤثر کردار ادا کریں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا حصہ ادا کریں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button