دنیا

2 ستمبر 1945ء سے آج تک: جنگ ختم ہوئی، مگر جنگی ذہنیت باقی ہے

2 ستمبر 1945ء کو جاپان کی باضابطہ دستاویزِ سپردگی پر دستخط کے ساتھ دوسری عالمی جنگ کا رسمی اختتام ہوا۔ 6 برس تک جاری رہنے والی اس تباہ کن جنگ نے دنیا کو انسانی جانوں کے بے پناہ نقصان، شہروں کی تباہی اور ہیروشیما و ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کی ہولناکی سے دوچار کیا۔ اس سانحے کے بعد عالمی برادری نے امن، تعاون اور آئندہ نسلوں کو جنگ کی تباہ کاری سے محفوظ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ جنگ کا خاتمہ، جنگی ذہنیت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔

آج، 81 برس بعد، مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور مسلح تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ مشرق وسطی کا انسانی المیہ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی اور خطرناک صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔ جدید میزائلوں، ڈرونز اور دیگر مہلک ٹیکنالوجی نے جنگ کی نوعیت ضرور بدل دی ہے، لیکن اس کا بنیادی المیہ آج بھی وہی ہے: جنگ کے فیصلے طاقت کے مراکز میں ہوتے ہیں اور اس کی سب سے بھاری قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔

1945 سے 2026 تک تاریخ ہمیں ایک بنیادی سوال کے سامنے کھڑا کرتی ہے کہ کیا انسانی جان کی حرمت واقعی سب کے لئے یکساں ہے؟ اگر شہریوں کی جان قیمتی ہے تو یہ اصول ہر خطے، ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگوں کے لئے یکساں ہونا چاہیے۔ کسی مظلوم کی شناخت، قومیت یا مذہب اس کے حقِ زندگی کو کم نہیں کرتا۔

دینی افکار و تعلیمات میں عدل محض ایک سیاسی تصور نہیں بلکہ بنیادی دینی و اخلاقی اصول ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت اور واقعۂ کربلا ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ حق کا معیار طاقت نہیں، بلکہ عدل و حقانیت ہے؛ اور ظلم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دینا انسانی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اسی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کو محض دو یا چند طاقتوں کی باہمی کشمکش سمجھنا کافی نہیں۔ اس کے پسِ پشت قبضے، سیاسی مفادات، علاقائی طاقت کا توازن، اسلحے کی دوڑ اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں سمیت متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب انصاف، خودمختاری، انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کو طاقت اور سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے۔

2 ستمبر 1945ء کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جنگ کا خاتمہ صرف ہتھیار رکھ دینے سے نہیں ہوتا؛ حقیقی امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب ظلم، انتقام، جارحیت اور طاقت کے ذریعہ مسائل حل کرنے کی ذہنیت کو شکست دی جائے۔

آج مشرقِ وسطیٰ کو مزید میزائلوں اور بموں سے زیادہ انصاف، مکالمے اور پائیدار امن کی ضرورت ہے۔ دنیا اگر دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے واقعی سبق حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے ہر مظلوم کے حقِ زندگی اور ہر شہری کے انسانی وقار کا یکساں احترام کرنا ہوگا۔

تاریخ کا اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ کب ختم ہوئی؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسان نے جنگ سے کیا سیکھا؟

اور کربلا کا جواب آج بھی ہمارے سامنے ہے کہ ظلم کے مقابلے میں عدل، جبر کے مقابلے میں حق، اور نفرت کے مقابلے میں انسانیت۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button