معروف عالمِ دین، ادیب و استاد مولانا محمد سیادت نقوی کا انتقال

امروہہ: معروف عالمِ دین، استاد، محقق، مصنف اور خطیب مولانا محمد سیادت نقوی کے انتقال کی خبر سے امروہہ سمیت علمی، دینی اور ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
مولانا محمد سیادت نقوی 6 نومبر 1942ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دارالعلوم سید المدارس سے دینی علوم کی تکمیل کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا اور روہیل کھنڈ یونیورسٹی سے ’’علی نظر: حیات و شاعری‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔
وہ طویل عرصے تک تدریس سے وابستہ رہے اور جگدیش سرن ہندو ڈگری کالج میں اردو کے پروفیسر اور صدرِ شعبۂ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1989ء میں اشرف المساجد کے امامِ جمعہ منتخب ہوئے اور بعد ازاں دارالعلوم سید المدارس کے متولی بھی رہے۔
مولانا محمد سیادت نقوی ایک صاحبِ علم و قلم شخصیت تھے۔ اسلامی فکر، فلسفہ، اردو ادب اور دینی موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف منظرِ عام پر آئیں، جن میں اسلامی نظریۂ عدالت، نسیم امروہوی: ایک تعارف، گفتۂ غالب، اسلام، اشتراکیت اور سرمایہ داری، نظامِ ملکیت کا تصور، اسالیبِ دعا اور فرہنگِ مراثیِ دبیر قابلِ ذکر ہیں۔
ان کی وفات سے علمی و ادبی دنیا ایک ممتاز استاد اور صاحبِ قلم شخصیت سے محروم ہوگئی۔ ان کے شاگرد، تصانیف اور علمی خدمات ان کی دیرپا علمی میراث کی حیثیت رکھیں گی۔
شیعہ نیوز مرحوم کے فرزندان مولانا سید احسن اختر سروش، سید حسین اور تمام اہلِ خانہ، شاگردوں، رفقائے علمی اور وابستگان سے دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہے۔




