احتجاجاً استعفیٰ دینے والے ملازمین بامیان میں گرفتار
احتجاجاً استعفیٰ دینے والے ملازمین بامیان میں گرفتار
شیعہ آبادی والے صوبہ بامیان میں طالبان کے وزیرِ عدلیہ کی جانب سے محکمۂ عدلیہ کے ملازمین کو اجتماعی طور پر گرفتار کئے جانے کے غیر معمولی اقدام نے شیعہ علاقوں میں امتیازی سلوک اور سرکاری ملازمین پر دباؤ ڈالے جانے کے حوالے سے تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
افغانستان کے "پایگاه خبری اطلاعات روز” کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کے وزیرِ عدلیہ عبدالحکیم شرعی نے بامیان کے محکمۂ عدلیہ کے ملازمین کی جانب سے احتجاجاً استعفیٰ دینے کے بعد انہیں کابل طلب کیا اور اپنی ذاتی جیل میں قید کر دیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد 14 سے 21 کے درمیان ہے۔ ان میں اس ادارے کے تمام شیعہ اور ہزارہ ملازمین کے علاوہ دیگر متعدد ملازمین بھی شامل ہیں، جبکہ صرف چند اعلیٰ عہدیداروں کو گرفتاری سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، طالبان کے اس عہدیدار کی جانب سے شیعہ اکثریتی صوبہ بامیان اور دیگر علاقوں میں اس سے قبل بھی سخت گیر اور پُرتشدد اقدامات کیے جاتے رہے ہیں، جن پر افغانستان کے شیعہ علما اور بزرگوں کی جانب سے شدید احتجاج اور ردِعمل سامنے آ چکا ہے۔




