ائمہ اربعہ اور ممتاز اہلِ سنت دانشوروں کے کلام میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فضائل اور علمی برتری کا جلوہ

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی بلند پایہ شخصیت، علم و دانش کی وسعت اور اخلاقی فضائل مذہبی حدود سے بالاتر ہیں اور ہمیشہ سے علمائے اہلِ سنت کی جانب سے آپ کی تعریف و تمجید کا باعث رہے ہیں۔
یہاں تک کہ فقہ کے چاروں مذاہب کے ائمہ اور معاصر اہلِ سنت دانشوروں نے بھی آپؑ کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم، علومِ اسلامی کا سرچشمہ اور علم و تقویٰ میں یگانۂ روزگار شخصیت قرار دیا ہے۔
آئیے اس موضوع پر میرے ساتھی کی تحقیقاتی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی مرجعیت اور روحانی و معنوی مقام ایک ایسی حقیقت ہے جس پر تمام اسلامی فرق و مذاہب کا اتفاقِ نظر پایا جاتا ہے۔
فقہ اور علمِ کلام کی تاریخ کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپؑ کا علمی مقام اس قدر بلند تھا کہ اہلِ سنت کے چاروں فقہی مذاہب کے ائمہ نے نہایت تواضع کے ساتھ آپؑ کے علمی مقام کا اعتراف کیا۔
اس سلسلہ میں نعمان بن ثابت، جو ابو حنیفہ کے نام سے مشہور اور مذہبِ حنفی کے بانی ہیں، نے مدینہ منورہ میں دو سال تک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور آپؑ کے علم سے استفادہ کیا۔ یہاں تک کہ تاریخ میں ان کا یہ معروف جملہ ثبت ہو گیا: "لَوْ لَا السَّنَتَانِ لَهَلَكَ نُعْمَانُ” یعنی: "اگر وہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔”
وہ یہ بھی تاکید کرتے تھے کہ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے زیادہ فقیہ اور عالم کسی کو نہیں دیکھا۔
اسی طرح مالک بن انس، امامِ مذہبِ مالکی، نے بھی مدینہ منورہ میں ایک عرصے تک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر علم حاصل کیا۔ ابن حجر عسقلانی کی کتاب «تہذیب التہذیب» اور ابن شہرآشوب کی «مناقب» میں منقول ایک مشہور قول کے مطابق انہوں نے اعتراف کیا: "مَا رَأَتْ عَيْنٌ، وَلَا سَمِعَتْ أُذُنٌ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ عِلْماً وَ عِبَادَةً وَ وَرَعاً” یعنی "کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور کسی انسان کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ کوئی شخص علم، عبادت اور ورع کے اعتبار سے (جعفر بن محمد صادق علیہما السّلام) سے بہتر ہو۔”
اسی طرح محمد بن ادریس شافعی اور احمد بن حنبل نے بھی متعدد مواقع پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی سیادت اور وثاقت کی تصدیق کی ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام کی عظمت اور آپؑ کے مضبوط علمی مقام کا یہ اعتراف صرف قدیم علمائے اہلِ سنت تک محدود نہیں رہا، بلکہ عصرِ حاضر کے اہلِ سنت دانشوروں اور محققین کی تحریروں میں بھی اسی قوت کے ساتھ جاری رہا ہے۔
مشہور مصنف اور محقق خیرالدین زِرِکلی نے اپنی معروف کتاب "الأعلام” میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو تابعین کے اکابر میں شمار کرتے ہوئے آپؑ کے بلند اور بے مثال علمی مقام کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب رمضان لاوند نے اپنی کتاب "الإمام الصادق علیه السلام علم و عقیدة” میں امام صادق علیہ السلام کی ذاتِ مبارک کے کلامِ الٰہی کے ساتھ ناقابلِ انقطاع تعلق پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امام صادقؑ ان بلند مرتبہ شخصیات میں سے تھے جن کے وجود میں قرآن کی حقیقت جاری و ساری تھی اور اس کے روشن آثار آپؑ کے تمام اقوال و افعال میں نمایاں ہوتے تھے۔
اسی طرح معروف مؤرخ اور محقق سہیل زَکّار نے تاریخِ اسلام کے اساتذہ اور ان کے افکار کا جائزہ لیتے ہوئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو "أعلم أهل زمانه” یعنی "اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم” قرار دیا ہے۔ وہ صراحت کرتے ہیں کہ احکامِ الٰہی اور حلال و حرام سے متعلق علوم آپؑ کے وجود کے سرچشمے سے خواص و عوام دونوں کے درمیان پھیلے۔
احمد حسن باقوری نے اپنی کتاب "علیّ إمام الأئمة” میں صراحت کے ساتھ ابو حنیفہ اور ان کے دو ممتاز شاگردوں، یعنی ابو یوسف اور محمد بن حسن شیبانی کے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر علمی استفادے کا ذکر کیا ہے اور فقہِ حنفی کی تشکیل میں امام صادقؑ کے علمی مکتب کے کردار کو واضح کیا ہے۔
اسی طرح احمد امین مصری نے اپنی کتاب "ظهر الإسلام” میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی وسعتِ علم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ امام صادق علیہ السلام تاریخِ اسلام کی سب سے زیادہ علم و آگہی رکھنے والی شخصیات میں سے تھے۔
اہلِ سنت کے مختلف طبقات اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے ان اہلِ علم کی یہ مستند اور صریح گواہیاں اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا اسلامی معارفِ اصیل کی تدوین، استحکام، پویائی اور نشوونما میں مرکزی کردار ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے، جس کا اعتراف اہلِ علم کے مختلف حلقوں میں نمایاں طور پر ملتا ہے۔




