ایشیاء

میانمار میں فوجی کریک ڈاؤن کی نویں برسی پر دسیوں ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کا احتجاج

بنگلہ دیش کے گنجان آباد پناہ گزین کیمپوں میں مقیم دسیوں ہزار مسلمان روہنگیا پناہ گزینوں نے میانمار کی فوجی کارروائی اور کریک ڈاؤن کی نویں برسی کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

روہنگیا پناہ گزینوں نے راخین ریاست میں اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپسی، ماضی میں ہونے والے جرائم کی یاد دہانی اور عالمی برادری کی جانب سے ان کے تحفظ کی ضمانت کا مطالبہ کیا۔

اس وقت بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں 12 لاکھ سے زائد پناہ گزین مقیم ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی پناہ گزین بستیوں میں شمار ہوتی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، روہنگیا پناہ گزینوں کی متحدہ کونسل نے کہا کہ اس اجتماع کا مقصد جاری انسانی بحران کو نمایاں کرنا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار میں انسانی حقوق کی صورتِ حال اپنی انتہائی نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فوجی تشدد اور حملوں کے نتیجے میں 36 لاکھ افراد اندرونِ ملک بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ایک کروڑ 24 لاکھ افراد شدید غذائی قلت اور بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسی طرح 2021ء کی فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک 8 ہزار سے زائد شہری، جن میں 1000 سے زیادہ بچے شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، مسلمان روہنگیا، جو 2017ء سے میانمار کی فوج کی جانب سے وسیع پیمانے پر جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، دنیا کے سب سے زیادہ ظلم و ستم کا شکار اقوام میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button