تاریخ اسلام

عمر بن خطاب کے قتل اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی دعا کے مستجاب ہونے کا دن

9 ربیع الاول، روایتی تقویم اور شیعوں کے درمیان مشہور قول کے مطابق، خلیفہ دوم کے قتل اور حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی دعا کے مستجاب ہونے کے طور پر جانا جاتا ہے؛ ایک ایسا تاریخی مقطع کہ جس کے روایتی پہلوؤں کی وضاحت اور اس کی اسناد کی دقیق جانچ ہمیشہ تاریخِ اسلام کے محققین کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کو روایت کیا ہے جو ہم مل کر دیکھتے ہیں۔

تاریخِ اسلام میں، 9 ربیع الاول شیعہ مذہبی حافظے اور روایتی متون میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔

یہ دن روایتی ثقافت اور عام شیعوں کے عقائد میں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی شہادت کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے دور غربت کے خاتمے، عمر بن خطاب کی موت اور حقِ ولایت کے دفاع میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی آہ و دعا کے ثمر آور ہونے کی یاد دلاتا ہے۔

متعدد روایتی متون کی بنیاد پر، جن میں "احمد بن اسحاق قمی” کی امام علی نقی ہادی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام سے مشہور روایت بھی شامل ہے، اس دن کو اہل بیت علیہم السلام کے غم و اندوہ کے دور ہونے کے دن اور صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی دعا کے مستجاب ہونے کے دن کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

شیعہ اعتقادی باور کے مطابق، حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے واقعہ سقیفہ اور حریمِ ولایت پر کی گئی جسارتوں کے بعد، اپنے خطبوں اور مناجاتوں میں فیصلے کو خداوندِ متعال کے سپرد فرما دیا اور حق کے احقاق کی خواہش کی۔

اسی لئے، بعد کے متون میں اس تاریخی حادثے کا رونما ہونا، خاندانِ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی مظلومیت کے جواب میں الہی استجابت کے ظہور اور اہل بیت علیہم السلام کے راستے کی حقانیت کی نشانی کے طور پر تفسیر کیا جاتا ہے۔

تاریخی نقطہ نظر سے، اس حادثے کے وقوع کے دقیق وقت کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اکثر اہل سنت مورخین اور بعض قدیم منابع نے عمر بن خطاب پر ابولؤلؤ کے ہاتھوں قاتلانہ حملے کے وقوع کو 23 ہجری کے اواخر ذی الحجہ میں ثبت کیا ہے؛ لیکن اس کے مقابلے میں شیعہ محدثین اور بزرگ شخصیات جیسے شیخ مفید رضوان اللہ علیہ نے مسار الشیعہ میں، ابن ادریس حلی رضوان اللہ علیہ نے السرائر میں اور علامہ مجلسی رضوان اللہ علیہ نے بحار الانوار میں، اہل بیت علیہم السلام کی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے، 9 ربیع الاول کے دن کو اس تاریخی واقعہ کے حقیقی دن کے طور پر بیان کیا ہے اور اس کی تعظیم پر تاکید کی ہے۔

آخر میں، 9 ربیع الاول تقویمی بحثوں سے قطع نظر، کلامی و تاریخی تجزیے میں، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کی یاد اور امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کی حریمِ ولایت کی پاسداری کے ساتھ شیعہ عقائد کے گہرے پیوند کی نشانی شمار ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button