خبریںدنیا

قرغیزستان کی جغرافیائی رکاوٹ توڑنے کی حکمتِ عملی

پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی کی کوشش

قرغیزستان کی حکومت خشکی میں گھرے ملک کی حیثیت سے نکلنے اور کھلے سمندروں تک مستقل رسائی حاصل کرنے کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک بین الاقوامی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس مرکز قائم کرنے کی وسیع منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد وسطی ایشیا کے تجارتی نیٹ ورک کو پاکستان میں واقع جنوبی ایشیا کی اہم بندرگاہوں سے جوڑنا ہے۔

اس موضوع پر میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

خشکی میں گھرے ممالک کو عالمی منڈیوں تک رسائی اور تجارتی لین دین کے اخراجات کم کرنے کے لئے ہمیشہ مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔

اسی تناظر میں وسطی ایشیا کے ایک مسلم ملک قرغیزستان نے اپنی مشرقی سرحد کے قریب بین الاقوامی ٹرانزٹ مرکز ’’سارتاش‘‘ قائم کرنے کا ایک اہم منصوبہ تیار کیا ہے۔

اس منصوبہ کا مقصد علاقائی سامان کی ترسیل کے سلسلے کو سڑک اور ریلوے کے راستوں سے جوڑ کر اقتصادی ترقی اور خطے کے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

خبر رساں ادارہ اناطولی کے مطابق، قرغیزستان کی قومی سرمایہ کاری ایجنسی نے جدید لاجسٹکس ٹرمینل اور ٹیکسٹائل صنعتی کلسٹر کے قیام سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

یہ کمپلیکس الائی وادی میں واقع ہوگا اور چین کے ساتھ سرحدی گزرگاہ ارکشتم سے صرف 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس مرکز کے ذریعے علاقائی راہداریوں سے ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کی بندرگاہوں کی جانب جانے والی ترسیلات کی تنظیم، کسٹم کلیئرنس اور دیگر امور انجام دیے جائیں گے۔

دوسری جانب بشکیک اور اسلام آباد کے درمیان سفارتی و اقتصادی مذاکرات میں بھی تیزی آئی ہے۔

دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر دستخط سے تجارتی آمدورفت میں سہولت اور قرغیزستان کے لئے کراچی اور گوادر جیسی اہم پاکستانی بندرگاہوں سے استفادے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

فریقین کے معاہدوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجودہ محدود تجارتی حجم کو بڑھا کر سالانہ 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے محفوظ مواصلاتی راہداریوں کا قیام ضروری ہوگا۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تجزیوں کے مطابق، قرغیزستان کو پاکستان سے منسلک ہونے کے لئے دو متوازی راستوں کا سامنا ہے: پہلا راستہ افغانستان کے راستے اور دوسرا قراقرم ہائی وے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ذریعہ ہے۔

اگرچہ ان منصوبوں کو مالیاتی غیر یقینی صورتِ حال اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ضرورت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم تعمیر و ترقی، اقتصادی تعاون اور مسلم ممالک کے درمیان مثبت روابط کو فروغ دینے کی کوششیں عوامی خوشحالی، علاقائی استحکام اور جامع ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button