روز فرحۃ الزہراء کی آمد کے ساتھ دنیا بھر میں شیعوں کے خوشی و مسرت کے ایام کا آغاز

9 ربیع الاول، اہل بیت علیہم السلام کے ایامِ سوگواری کے اختتام کے ساتھ، شیعوں کی خوشی و سرور کے آغاز کا دن ہے۔
اس دن کی فضیلت میں معصومین علیہم السلام سے روایات نقل ہوئی ہیں، اسی طرح بعض شیعہ علماء نے بھی اس سلسلہ میں مطالب بیان کئے ہیں۔
اس عظیم دن کے لئے جسے فرحة الزہراء اور غدیرِ ثانی کا نام دیا گیا ہے، کچھ اعمال بھی مستحب قرار دیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ پر توجہ فرمائیں:
9 ربیع الاول، اہل بیت علیہم السلام کے سب سے بڑے دشمن کی ہلاکت کی سالگرہ کی آمد کے ساتھ، "فرحة الزہراء” کے عنوان سے شیعوں کی جشن و سرور کی محافل دنیا بھر میں شروع ہو جاتی ہیں۔
خاندانِ عصمت و طہارت علیہم السلام کے چاہنے والے حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے سوگ میں دو ماہ عزاداری کے بعد، خوشی کے لباس پہن کر حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔
یہ دن دینی ثقافت میں "غدیرِ ثانی” اور "عید البقر” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور شیعوں کی سب سے بڑی عیدوں میں شمار ہوتا ہے؛ کیونکہ روایات کی بنیاد پر یہ دن حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی بددعا کے مستجاب ہونے کا دن اور تولی و تبری کے اظہار کا ایک خاص موقع ہے۔
بہت سی روایات اس دن کی عظمت و فضیلت پر تاکید کرتی ہیں۔
سید بن طاؤس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے کتاب "زوائد الفوائد” میں احمد بن اسحاق قمی سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے 9 ربیع الاول کو اہل بیت علیہم السلام کے نزدیک عظیم الشان دن قرار دیا ہے اور اسے شیعوں کے لئے عید قرار دیا ہے؛ ایک ایسا دن کہ آپ کے فرمان کے مطابق اس میں عید منانے کی فضیلت گناہوں کی بخشش، اعمال کی قبولیت اور اہل بیت علیہم السلام کی شفاعت کی ضمانت کا باعث بنے گی۔
اسی طرح علامہ مجلسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے "زاد المعاد” میں امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں آپ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن آلِ رسول کی آنکھوں کو روشن کیا ہے۔
امیر المؤمنین علیہ السلام نے اس دن کے لئے بہتر (72) نام شمار کئے ہیں جن میں "غدیرِ دوم کا دن”، "شیعوں کے گناہوں میں تخفیف کا دن”، "دعاؤں کے مستجاب ہونے کا دن”، "خدا کی قدرت کے ظہور کا دن”، "مظلوموں کی مدد کا دن” اور "زیارت و بھائی چارے کا دن” شامل ہیں۔
بزرگ محدث شیخ عباس قمی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی کتاب "وقائع الایام” میں 9 ربیع الاول کو عظیم دن اور شیعوں کی بڑی عید قرار دیا ہے اور یاد دلایا ہے کہ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے اس دن کو عید کا نام دیا ہے اور اس کی تعظیم کی وصیت فرمائی ہے۔
اس دن انفاق، مومن بھائیوں کو کھانا کھلانا، گھر والوں کی معیشت میں کشادگی پیدا کرنا، نیا لباس پہننا، شکر گزاری اور عبادت جیسے کام مستحب اعمال کے طور پر اور غموں کے دور ہونے کا سبب بتائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ صاحبِ کتاب "جواہر الکلام” نے بھی خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے اس دن کی فضل و برکت کے بارے میں ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، 9 ربیع الاول کے فضائل و برکات کی گہرائی سے انسانی عقل کی حیرت و شگفتگی کو بیان کیا ہے۔
مرجع عالیقدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی نے بھی 9 ربیع الاول کے بارے میں فرمایا ہے: "اہل بیت علیہم السلام کے ایامِ عزا 8 ربیع الاول یعنی امام حسن عسکری علیہ السلام کے یوم شہادت تک جاری رہتے ہیں۔ ہم بھی اس دستور العمل کے مطابق جو ائمہ معصومین علیہم السلام نے ہمیں دیا ہے کہ ‘وَ یَفْرَحُونَ لِفَرَحِنَا وَ یَحْزَنُونَ لِحُزْنِنَا’ (وہ ہماری خوشی میں خوش ہوتے ہیں اور ہمارے غم میں غمگین ہوتے ہیں)، ان تمام ایامِ عزا میں عزاداری کرتے ہیں اور 9 ربیع الاول جسے معصومین علیہم السلام کے فرمان کے مطابق عید ہے، ہم بھی اس دن عید مناتے ہیں اور ان کی خوشی میں خوشی مناتے ہیں۔”
مومنین کو کھانا کھلانا، خوشی کا اظہار اور دوسروں کو خوش کرنا، خرچ میں وسعت دینا، نئے کپڑے پہننا اور خداوندِ متعال کا شکر و عبادت بجا لانا 9 ربیع الاول کے مستحب اعمال میں سے ہیں۔




