خطیبِ اعظم علامہ سید محمد دہلوی طاب ثراہ

کچھ شخصیات اپنے عہد سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کے لئے رہنمائی کا چراغ بن جاتی ہیں۔ خطیبِ اعظم علامہ سید محمد دہلوی طاب ثراہ بھی برصغیر کی شیعی تاریخ کی ایسی ہی بااثر شخصیت تھے۔ وہ عالم، خطیب، مصنف، دانشور اور ملی قائد تھے، جنہوں نے اپنی زندگی علم و معرفت، اصلاحِ معاشرہ، اجتماعی بیداری اور ملتِ تشیع کے حقوق کے تحفظ کے لئے وقف کردی۔
یتیمی سے علمی و ملی قیادت تک
سید محمد دہلوی طاب ثراہ، مرحوم سید آفتاب حسین کے فرزند تھے اور 1317ھ مطابق 1899ء میں ضلع بجنور، اترپردیش کے موضع پتن ہیٹری کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کم سنی ہی میں والدین سے محروم ہوگئے، مگر اس محرومی نے ان کے عزم کو متزلزل نہیں کیا۔
دہلی اور لکھنؤ میں اپنے زمانے کے ممتاز علماء سے کسبِ فیض کیا اور مدرسہ ناظمیہ میں چار سال علمی تربیت حاصل کی۔ قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد اور علمِ کلام سے گہری دلچسپی نے انہیں ایک صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ فکر عالم بنایا۔ 1943ء میں ادارہ تفسیر القرآن کی سرگرمیوں کے سلسلے میں رام پور تشریف لے گئے اور تقریباً سات برس وہاں قیام کیا۔
ان کی اصل شہرت ان کی غیر معمولی خطابت سے ہوئی اور برصغیر میں وہ خطیبِ اعظم کے لقب سے معروف ہوئے۔ ان کی خطابت صرف فصاحت و بلاغت یا جذباتی انداز کا نام نہیں تھی؛ وہ پیچیدہ موضوعات کو عام فہم مثالوں، عقلی استدلال اور قرآنی شواہد کے ذریعے سامعین تک پہنچانے کا ہنر رکھتے تھے۔
ان کے نزدیک منبر محض خطاب کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، اصلاح، شعور اور بیداری کا مرکز تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مقبولیت آگے چل کر ان کی ملی قیادت کی بنیاد بنی۔
ان کے خطابت کے مقام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ ان کے زمانے میں متعدد نامور خطباء موجود تھے، مگر ’’خطیبِ اعظم‘‘ کا لقب بالخصوص سید محمد دہلوی طاب ثراہ کے نام سے وابستہ ہوگیا۔ ان کی ایک معروف تقریر کے حوالے سے بھی بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے مذہبی و علمی موضوع کو فصاحت، سائنسی مثالوں اور قرآنی استدلال کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا کہ حاضرین بے حد متاثر ہوئے۔
خطیبِ اعظم طاب ثراہ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی عملی خدمتِ ملت تھی۔ وہ انجمن وظیفہ سادات و مومنین سے وابستہ رہے اور تعلیم و فلاح کے مختلف منصوبوں میں کردار ادا کیا۔
سادات کے لئے بورڈنگ، بمبئی میں قیصر باغ ہال، دہلی میں امامیہ ہال اور جھنگ میں یتیم خانے جیسے منصوبے اس بات کی علامت تھے کہ ان کے نزدیک ملت کی خدمت صرف مذہبی اجتماعات تک محدود نہیں تھی؛ تعلیم، رہائش، یتیموں کی کفالت اور نئی نسل کی تربیت بھی ملی خدمت کا حصہ تھے۔
1950ء میں پاکستان ہجرت کے بعد ان کی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ ملتِ تشیع کو مذہبی شناخت، عزاداری، دینیات، اوقاف اور نصابِ تعلیم سے متعلق مختلف مسائل کا سامنا تھا۔
جنوری 1964ء میں کراچی کی امام بارگاہ شاہِ کربلا، رضویہ کالونی میں ملک بھر کے دو سو سے زائد علماء اور ممتاز شیعہ رہنماؤں کا تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔ اسی اجتماع کے نتیجے میں مجلسِ عمل علمائے شیعہ پاکستان تشکیل دی گئی اور علامہ سید محمد دہلوی طاب ثراہ کو اس کا سربراہ منتخب کیا گیا۔
اس تحریک کے بنیادی مطالبات تھے:
- شیعہ طلبہ کے لئے ان کی فقہ کے مطابق علیحدہ دینیات؛
- شیعہ اوقاف کے لئے الگ بورڈ؛
- عزاداری کا تحفظ؛
- درسی کتب سے قابلِ اعتراض اور دل آزار مواد کا اخراج۔
یہ جدوجہد صرف بیانات تک محدود نہیں رہی۔ حکومت کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں، وفود، ملک گیر کنونشن، عوامی اجتماعات، قراردادیں، خطوط اور احتجاجی مہمات مسلسل جاری رہیں۔
28 تا 30 اگست 1964ء راولپنڈی میں ہونے والے عظیم الشان کنونشن میں تیس ہزار سے زائد افراد کی شرکت کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے بعد آل پاکستان یومِ احتجاج، ملتان و جھنگ کے کنونشن، کراچی و حیدرآباد کی سرگرمیاں اور ملک گیر شیعہ مطالبات کمیٹیوں کا قیام اسی تحریک کا حصہ تھے۔
یہ جدوجہد اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ علامہ دہلوی طاب ثراہ نے ملت کے مطالبات کو پرامن، منظم اور جمہوری انداز میں پیش کرنے کی ایک روایت قائم کی۔ بعد کے قائدین نے بھی ان کی اس جدوجہد کو پاکستان میں شیعہ حقوق کے لیے پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد کی بنیاد قرار دیا ہے۔
بالآخر شیعہ دینیات کے نفاذ کی جدوجہد آگے بڑھی اور 1976ء میں میٹرک کا امتحان اسی علیحدہ دینیات کے نصاب کے تحت منعقد ہوا۔
1964ء کے تاریخی اجتماع کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ مختلف علاقوں، اداروں اور فکری پس منظر رکھنے والے علماء ایک مشترک مقصد کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ ذرائع میں اس اجتماع میں شریک متعدد علماء اور مختلف اداروں کی نمائندگی کا ذکر ملتا ہے۔
یہ پہلو آج بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ خطیبِ اعظم طاب ثراہ نے دکھایا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن ملی حقوق اور اجتماعی مفاد کے بنیادی مسائل پر اتحاد اور مشترکہ جدوجہد ممکن ہے۔
خطابت اور ملی سرگرمیوں کے ساتھ علامہ دہلوی طاب ثراہ علمی میدان میں بھی فعال رہے۔ ان کی معروف تصنیف ’’نور العصر‘‘ قرآن، تفسیر، حدیث، عقائد، علمِ کلام اور فلسفہ کے مباحث پر مشتمل ہے اور ان کی علمی و فکری شخصیت کی اہم یادگار ہے۔
کتب سے ان کی محبت غیر معمولی تھی۔ تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز دور میں ان کا ذاتی کتب خانہ ضائع ہوگیا، تاہم بعد میں کراچی کے رضویہ علاقے میں ان کے گھر سے وابستہ ایک اہم کتب خانہ قائم رہا۔
ان کے فرزند سید احمد دہلوی اور مولانا محمد ہارون خاں صاحب ممتاز الافاضل نے خطیبِ اعظم طاب ثراہ کی حیات ہی میں اس کتب خانے کو مرتب و منظم کیا تھا۔ یہ خاصا وسیع کتب خانہ تھا اور خطیبِ اعظم طاب ثراہ کے علمی ذوق اور کتاب سے محبت کی ایک زندہ یادگار محسوس ہوتا تھا۔
ان کے پوتے مولانا سجاد بھی 1980ء کی دہائی میں قم تشریف لائے اور حوزہ علمیہ میں دینی تعلیم حاصل کی۔
خطیبِ اعظم طاب ثراہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے علم کو عمل، خطابت کو شعور اور قیادت کو خدمتِ ملت سے جوڑ دیا۔
وہ صرف مسائل بیان کرنے والے خطیب نہیں تھے؛ وہ قوم کو منظم کرنے والے قائد بھی تھے۔ پیرانہ سالی کے باوجود انہوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں کے دورے کئے اور اپنے مطالبات کے لئے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔
29 جمادی الثانی 1391ھ، مطابق 20 اگست 1971ء کو وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور کراچی کے باغِ خراسان میں سپردِ خاک کئے گئے۔
آج ان کے ایام وفات پر انہیں یاد کرنا محض ایک بزرگ عالم اور عظیم خطیب کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے دور کو یاد کرنا ہے جب ایک عالم نے منبر سے نکل کر ملت کے اجتماعی مسائل کو اپنی ذمہ داری سمجھا، لوگوں کو متحد کیا اور پرامن و منظم جدوجہد کے ذریعہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
خطیبِ اعظم سید محمد دہلوی طاب ثراہ کی زندگی کا پیغام آج بھی اتنا ہی روشن ہے کہ علم ہو تو شعور پیدا کرے، خطابت ہو تو بیداری لائے، قیادت ہو تو اتحاد پیدا کرے اور خدمت ہو تو نسلوں کے لیے راستہ چھوڑ جائے۔
اللہ تعالیٰ خطیبِ اعظم علامہ سید محمد دہلوی طاب ثراہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی علمی، دینی، ملی اور قومی خدمات سے سچی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔




