مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز بیانات پر سویڈن کے وزیر اعظم کا دوٹوک ردِعمل اور ملک میں مذہبی آزادی کے تحفظ پر زور
مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز بیانات پر سویڈن کے وزیر اعظم کا دوٹوک ردِعمل اور ملک میں مذہبی آزادی کے تحفظ پر زور
سویڈن کے وزیر اعظم نے ملک کی ایک سیاسی جماعت کے رہنما کی جانب سے مسلمانوں کے اپنے دین سے دست بردار ہونے سے متعلق متنازع اور اسلام مخالف بیانات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ان خیالات کو سراسر غیر منطقی قرار دیا اور مسلمان شہریوں سے کہا کہ وہ ان باتوں کو نظر انداز کریں۔
"الکومپس” میڈیا کی جانب سے "داگنز ای ٹی سی” اخبار کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، سویڈن کے وزیر اعظم اولف کرسٹرسون نے اس اخبار کے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں، سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما ریکارد یومشوف کے ان بیانات کو واضح طور پر مسترد کر دیا، جن میں انہوں نے اسلام کا موازنہ نازی ازم سے کیا تھا۔
اولف کرسٹرسون نے زور دے کر کہا کہ مذہبی آزادی کا دفاع اور ہر شخص کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کے حق کا تحفظ ان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرسچن ڈیموکریٹس پارٹی کی رہنما ایبا بوش نے بھی ان خیالات سے خود کو الگ کر لیا، تاہم ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما جیمی اوکسون نے یومشوف کے مؤقف کو براہِ راست مسترد کرنے سے گریز کیا۔ یومشوف نے حال ہی میں ایک متنازع کتاب شائع کرکے اسلامی مقدسات پر بھی شدید حملہ کیا ہے۔




