خبریںعراقمقدس مقامات اور روضے

حرمِ مطہرِ امیرالمؤمنین علیہ السلام میں کربلائے معلیٰ کے عزادار موکبوں کی وسیع شرکت اور عزاداری

یوم شہادتِ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت پر روضہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے جوار میں عزاداری کا جوش و خروش اپنے عروج پر پہنچ گیا، جب اطرافی صوبوں سے سوگواروں کے قافلے نجفِ اشرف پہنچے۔

اسی سلسلہ میں شہرِ مقدس کربلائے معلیٰ کے باشندوں نے بھی منظم انداز میں اپنے عزاداری کے موکبوں کے ہمراہ شرکت کی اور حرمِ مطہر کے صحنوں کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی یاد اور عزاداری کے مراکز میں تبدیل کردیا۔

شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، نوحہ و ماتم، سوگواری اور مذہبی نعروں کی صدائیں مرقدِ مطہرِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اطراف میں گونجتی رہیں۔

اس سوگوار اجتماع میں شریک عزاداروں نے مجالسِ عزا اور عزاداری کے ذریعہ خاندانِ عصمت و طہارت علیہم السلام سے اپنی وفاداری اور والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔

ان عزادار گروہوں میں نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک کی بڑی تعداد میں شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ دینی و مذہبی روایات نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں اور نئی نسل بھی شعائرِ الٰہی کی تعظیم میں بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔

یہ عظیم اجتماع اپنے روحانی و معنوی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ دو مقدس مذہبی شہروں، کربلائے معلیٰ اور نجفِ اشرف کے باشندوں کے درمیان شعائرِ الٰہی کی تعظیم کے حوالے سے گہری یکجہتی اور اخوت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

اس نوعیت کے عزاداری کے پروگرام مذہبی شناخت اور دینی شعائر کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور دنیا بھر کے شیعیانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے اتحاد، اخوت اور باہمی ہمدردی کا پیغام پہنچاتے ہیں۔

یہ سوگواری کا عظیم اجتماع عزاداران کی اجتماعی دعا پر اختتام پذیر ہوا، جس میں انہوں نے منجیِ عالمِ بشریت حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل، مسلمانوں کے امور میں آسانی، مشکلات کے خاتمے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی پریشانیوں و گرفتاریوں کے رفع ہونے کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button