عراقمقالات و مضامین

اربعین کی پیدل زیارت اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث کی روشنی میںرپورٹ

اربعینِ حسینی کے ایام قریب آتے ہی ایک بار پھر دنیا بھر سے لاکھوں عاشقانِ امام حسین علیہ السلام پیدل کربلا کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ تاہم اس موقع پر بعض بدخواہ اور شکوک و شبہات پھیلانے والے افراد اس نورانی روایت کی شرعی حیثیت پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

لیکن شیعہ مکتب کی معتبر حدیثی کتابوں کا جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی پیدل زیارت کی ترغیب اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور سیرت میں واضح طور پر موجود ہے۔

ہمارے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے ملاحظہ کرتے ہیں۔

ہر سال اربعینِ حسینی کے موقع پر حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے لاکھوں عقیدت مند دنیا کے مختلف ممالک سے کربلا کی جانب پیدل سفر کرتے ہیں، تاکہ دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع میں شریک ہو سکیں۔

اس عظیم اجتماع پر بعض بدخواہ اور تعصب رکھنے والے افراد اعتراض کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اربعین کی پیدل زیارت اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت سے ثابت نہیں۔

اس دعوے کا جواب شیعہ کی معتبر حدیث کی کتاب کامل الزیارات، کہ جس کے مصنف ابن قولویہ ہیں، اس میں موجود ہے۔

اس کتاب میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے متعدد احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں امام حسین علیہ السلام کی پیدل زیارت کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

پہلی روایت کامل الزیارات، صفحہ 253 میں نقل ہوئی ہے:

“اے حسین! جو شخص اپنے گھر سے امام حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے ارادے سے نکلے، اگر وہ پیدل جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے، ایک گناہ معاف کرتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ حائرِ حسینی پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کامیاب اور فلاح پانے والوں میں شامل کر دیتا ہے۔

اور جب وہ واپسی کا ارادہ کرتا ہے تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور یہ خوش خبری دی ہے کہ اپنے اعمال کا آغاز نئے سرے سے کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گزشتہ گناہ معاف فرما چکا ہے۔”

دوسری روایت کامل الزیارات، صفحہ 255 میں نقل ہوئی ہے:

“جو شخص امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے لیے پیدل جائے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک ہزار نیکیاں لکھتا ہے، ایک ہزار گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے درجات میں ایک ہزار درجے بلند فرماتا ہے۔”

تیسری روایت کامل الزیارات، صفحہ 257 میں نقل ہوئی ہے:

“جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے پیدل جائے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر اٹھنے اور رکھنے والے قدم کے بدلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرماتا ہے۔”

ان تینوں احادیث میں “ماشیاً” یعنی پیدل چلنے کا لفظ واضح طور پر استعمال ہوا ہے، جو پیدل زیارت کی فضیلت پر صریح دلالت کرتا ہے۔

چونکہ ان احادیث میں کسی خاص زمانے یا موقع کی قید نہیں لگائی گئی، اس لیے یہ فضیلت اربعین کی زیارت کو بھی شامل ہے۔

لہٰذا اربعین کی پیدل زیارت نہ صرف اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت اور وفاداری کا عملی اظہار ہے بلکہ اس کی بنیاد اسلامی تعلیمات اور اہلِ بیت علیہم السلام کی مستند احادیث میں بھی موجود ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ایک بابرکت ذریعہ ہے

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button