شیعہ مرجعیت

امام حسین علیہ السلام کی زیارتِ اربعین اگرچہ یومِ اربعین سے مخصوص ہے، تاہم چند دن پہلے یا چند دن بعد بھی انجام دینا جائز ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

امام حسین علیہ السلام کی زیارتِ اربعین اگرچہ یومِ اربعین سے مخصوص ہے، تاہم چند دن پہلے یا چند دن بعد بھی انجام دینا جائز ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے روزانہ علمی نشست کا انعقاد ہفتہ، 17 صفر 1448 ہجری کو ہوا۔

اس نشست میں حسبِ سابق معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات عنایت فرمائے۔

زیارتِ اربعین کو اربعین کے دن سے چند روز پہلے یا چند روز بعد انجام دینے کے حکم کے بارے میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: اگرچہ اس مسئلہ پر فقہاء کا اجماع موجود نہیں، لیکن روایات اور اکابر فقہاء کے مختلف فتاویٰ میں مذکور متعدد جزئیات سے ایک کلی قاعدہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تمام مستحبات میں وسعت اور گنجائش پائی جاتی ہے۔ یہ حکم کسی ایک مخصوص مستحب تک محدود نہیں، بلکہ "عدمِ خصوصیت” کے فہم کی بنیاد پر تمام مستحبات کو شامل ہے۔

معظم لہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے فرمایا: زیارت کے معنی کسی مقدس ہستی کی خدمت میں حاضر ہونا ہیں۔ البتہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں شریعت نے استثنائی طور پر دور سے پڑھی جانے والی زیارت کو بھی، موجود دلائل کی بنا پر، زیارت کا حکم دیا ہے، ورنہ لغوی اعتبار سے اسے زیارت نہیں کہا جاتا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی مزید فرمایا: مستحبات کے باب میں ایسے افراد کے لیے جو کسی شرعی عذر کی وجہ سے، خواہ وہ مقام کا عذر ہو یا وقت کا، اصل مقام یا مقررہ وقت پر حاضر نہ ہو سکیں، اتنی وسعت تسلیم کی گئی ہے جتنی عرف اور متشرعین کا ارتکاز قبول کرتا ہے۔ لہٰذا اگر شدید ازدحام کی وجہ سے حرمِ مطہر میں داخل ہونا ممکن نہ ہو تو کچھ فاصلے سے زیارت کرنا جائز ہے۔ اسی طرح زمانی عذر کی صورت میں زیارتِ اربعین کو اربعین سے چند دن پہلے یا چند دن بعد انجام دینا بھی بلااشکال اور جائز ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button