عفو و درگزر کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان کے ساتھ برائی کرے، اگرچہ اسے اسی طرح برائی کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ برائی کا جواب برائی سے نہ دے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
عفو و درگزر کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان کے ساتھ برائی کرے، اگرچہ اسے اسی طرح برائی کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ برائی کا جواب برائی سے نہ دے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی اجلاس پیر، 27 صفر 1448 ہجری کو منعقد ہوا۔
اس نشست میں گزشتہ مجالس کی طرح معظم لہ نے حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مغفرت و درگزر کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: انسان کو اپنے ساتھ کی جانے والی برائیوں کے مقابلے میں صبر اور مغفرت و درگزر کی تلقین کی گئی ہے؛ یعنی انسان ان برائیوں کو برداشت کرے اور ان سے درگزر کرے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: عفو کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص انسان کے ساتھ برائی کرے، اگرچہ انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ اسی طرح برائی کرے، لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ برائی کا جواب برائی سے نہ دے۔
انہوں نے مزید تاکید فرمائی: "غفّار” اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام ہے، جو صیغۂ مبالغہ ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ بخشنے والا اور بہت زیادہ درگزر کرنے والا ہیں۔



