بھارت میں اسلاموفوبیا کے ساختی بحران میں شدت

انسانیت کے خلاف جرائم کے خدشے پر ماہرینِ انسانی حقوق کا تشویش ناک انتباہ
انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی ماہرین کی حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد، بڑے پیمانے پر گھروں اور مذہبی مقامات کی مسماری اور مسلمانوں کے قتل کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق 2026ء مسلمانوں کے لئے، جو بھارت کی تقریباً 30 کروڑ نفوس پر مشتمل اقلیت ہیں، حالیہ تاریخ کا سب سے خونریز سال ثابت ہو سکتا ہے۔
ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، آئیے اسے ملاحظہ کرتے ہیں:
بھارت میں مسلم اقلیت کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ، نسلی و فرقہ وارانہ تشدد اور منظم امتیازی سلوک نے عالمی سطح پر اس بڑے مذہبی طبقے کی انسانی حقوق کی صورتِ حال اور سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق، حملوں کی ایک نئی اور منظم لہر کے نتیجے میں مسلمانوں کے گھروں اور املاک کی مسماری، من مانی گرفتاریاں، شہریت کے حقوق سے محرومی اور جسمانی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان اقدامات نے بھارت میں مسلمانوں کی سماجی زندگی اور سلامتی کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
بھارتی جریدے ’’ڈیلی ہنٹ‘‘ (Dailyhunt) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق 2026ء کے آغاز سے اب تک بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں کم از کم 44 مسلمان جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 25 اموات صرف مئی سے جولائی کے درمیان واقع ہوئی ہیں۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں اور ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے اتر پردیش، آسام، کشمیر اور مغربی بنگال سمیت بعض ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف ایسی کارروائیاں کی جا رہی ہیں جن میں 3 ہزار سے زائد مکانات، دکانوں اور مساجد کی مسماری، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور قانونی شہریت سے محرومی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اسی طرح ’’وصل‘‘ نیوز ویب سائٹ کے مطابق، جنگی جرائم اور نسل کشی سے متعلق بین الاقوامی عدالتوں کے سابق پراسیکیوٹر اسٹیون راب نے مذہبی آزادی سے متعلق بین الاقوامی کمیشن میں ایک جامع رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ بار بار ہونے والا ناروا سلوک، شہریت کی منسوخی اور شدید کریک ڈاؤن، بین الاقوامی جرائم کی سنگین علامات ظاہر کرتے ہیں اور یہ صورتِ حال آگے چل کر ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
انہوں نے ساختی تشدد، رہائشی علاقوں کی مسماری اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے تفرقہ انگیز نعروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بھارت کی صورتِ حال ان علاقوں سے مشابہت اختیار کرتی جا رہی ہے جہاں ماضی میں اجتماعی جرائم اور نسل کشی جیسے ہولناک واقعات رونما ہو چکے ہیں۔
’’فائیو پیلرز‘‘ نامی تجزیاتی پلیٹ فارم کے مطابق، یہ بڑھتا ہوا بحران عدالتی خاموشی اور تشدد کے ذمہ دار عناصر کو حاصل مبینہ استثنا کے ساتھ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف مسلمانوں کے بنیادی حقوق بلکہ ان کی شناخت، شہریت اور ملک میں پُرامن بقائے باہمی کے اصول کو بھی شدید سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔
اسی تناظر میں مسلم معاشروں اور بین الاقوامی تنظیموں نے مسلمانوں کی جان و مال اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات، آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات اور امتیازی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔




