ایک مصری طالب علم کو غیرقانونی طور پر رجسٹرڈ سم کارڈ کے مبینہ غلط استعمال کے مقدمہ میں عمر قید کی سزا
ایک مصری طالب علم کو غیرقانونی طور پر رجسٹرڈ سم کارڈ کے مبینہ غلط استعمال کے مقدمہ میں عمر قید کی سزا
مصری شہریوں کے نام پر ان کی اطلاع یا رضامندی کے بغیر موبائل فون کی سم کارڈز رجسٹر کئے جانے کے انکشاف نے پورے ملک میں شدید قانونی اور سکیورٹی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس بحران نے اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر لی جب کمپیوٹر سائنس کے ایک طالب علم عمرو عمّارہ کو اس کے نام پر رجسٹرڈ ایک فون نمبر کے مجرمانہ استعمال کے باعث منشیات سے متعلق ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔
طالب علم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ سم کارڈ اس کی لاعلمی میں اس کے شناختی دستاویزات کا غلط استعمال کرتے ہوئے جاری کیا گیا تھا۔
روزنامہ الاہرام کے مطابق، اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سیکڑوں شہریوں، معروف شخصیات اور وکلا نے اپنے اکاؤنٹس اور ریکارڈز کی جانچ کی تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے نام پر متعدد سم کارڈز رجسٹرڈ ہیں، جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں تھا۔
وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج اور اعتراضات کے بعد مصر کی پارلیمنٹ نے غیر مجاز نمائندوں کے ذریعے سم کارڈز کی فروخت روکنے اور خریداروں کی شناخت چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال مصر کے انتظامی، سکیورٹی اور عدالتی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے اس طریقۂ کار میں اصلاحات اور ایسے معاملات سے نمٹنے کے موجودہ نظام میں بنیادی اور سنجیدہ تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔




