اقتصادایشیاء

آسیان کی معاشی یکجہتی؛ حلال صنعت کے فروغ اور 24 کروڑ مسلمانوں کے لئے نئے مواقع

جنوب مشرقی ایشیا کی اقوام کی تنظیم آسیان (ASEAN) کے رکن ممالک کے درمیان معاشی یکجہتی کے عمل میں تیزی اور مشترکہ منڈی کے قیام کے ساتھ، خطے کی تقریباً 24 کروڑ مسلم آبادی کے لیے تجارت، کاروبار، کارآفرینی اور حلال معیشت کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

یہ عمل مسلمانوں کو خطے کی معاشی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے اور سماجی استحکام کے فروغ میں مؤثر حصہ لینے کے لیے نئے امکانات فراہم کر رہا ہے۔

ہمارے ض ساتھی نے اس موضوع پر ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے اسے دیکھتے ہیں:

جنوب مشرقی ایشیا کے معاشی اور تجارتی منظرنامے میں آنے والی تبدیلیاں کاروباری افراد اور کارآفرینوں کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔

تجارتی عمل کو آسان بنانے اور رکاوٹوں میں کمی کے نتیجے میں عوامی فلاح و بہبود میں بہتری اور مقامی کاروباروں کے فروغ کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔ اس صورتِ حال میں خطے کی بڑی مسلم آبادی ان معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی مسلم نیٹ ورک ٹی وی (Muslim Network TV) کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ آسیان کے رکن ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی ہم آہنگی نے مسلم معاشروں کو علاقائی سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع سے استفادہ کرنے کے لئے ایک اہم مقام فراہم کیا ہے۔

اسی سلسلہ میں سنگاپور کے آئی ایس ای اے ایس۔یوسف اسحاق انسٹی ٹیوٹ (ISEAS-Yusof Ishak Institute) کے مرکز برائے آسیان مطالعات کی محقق ملیندا مارٹینوس نے مسلم نیٹ ورک ٹی وی (MNTV) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسیان نے 1967ء میں اپنے قیام کے بعد سے خطے میں موجود وسیع تنوع کے باوجود مسلسل پیش رفت کی ہے اور اب یہ ایک جامع علاقائی برادری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مذکورہ محقق کا کہنا ہے کہ آسیان آزاد تجارتی علاقہ (ASEAN Free Trade Area) کے قیام اور آسیان اقتصادی برادری (ASEAN Economic Community) کی تشکیل کے نتیجے میں تجارتی محصولات اور رکاوٹوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے یہ خطہ ایک زیادہ مربوط اور وسیع مشترکہ منڈی میں تبدیل ہوا ہے۔

اسی طرح علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (RCEP)، جسے دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ قرار دیا جاتا ہے، نے رکن ممالک کی معیشتوں کو ایشیا بحرالکاہل کے اہم اقتصادی شراکت داروں سے جوڑ دیا ہے۔

مسلم نیٹ ورک ٹی وی نے اس سنگاپوری ماہر کے حوالے سے مزید بتایا کہ اگرچہ آسیان کے پاس مذہبی امور کے لئے کوئی مخصوص ادارہ موجود نہیں، تاہم اس علاقائی معاشی یکجہتی نے خطے کے 24 کروڑ مسلمانوں کے لئے متعدد نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

مسلمانوں کی ملکیت میں موجود چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے تجارتی رکاوٹوں میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی علاقائی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ حلال صنعت بھی اس معاشی یکجہتی کے اہم ترین شعبوں میں شامل ہے۔ اس شعبے کے ذریعے مسلمان کاروباری افراد اسلامی شریعت کے مطابق مصنوعات تیار کرکے انہیں وسیع تر علاقائی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلمان خواتین کی تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں زیادہ فعال شرکت، نیز مسلم معاشروں کی جانب سے انتہاپسندی کی روک تھام، شدت پسند گروہوں کے نظریات کے پھیلاؤ کو روکنے اور انسانی امداد و فلاحی سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کرنا، جنوب مشرقی ایشیا کی جامع اور پائیدار ترقی کے حصول میں اہم عوامل ثابت ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button