اربعین حسینیمقدس مقامات اور روضے

مشایۂ و زیارتِ اربعینِ حسینی؛ باہمی ہم آہنگی کا بے مثال ذریعہ اور عالمِ اسلام کے بڑے چیلنجز کے حل کی کنجی

اربعینِ حسینی کا عظیم مشایہ موجودہ دور کا سب سے بڑا روحانی اور انسانی اجتماع ہے، جو محض ایک سالانہ مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک عظیم سرمایہ ہے۔

یہ پانچوں براعظموں سے آنے والے اہلِ فکر، دانشوروں اور مختلف طبقات کے افراد کے درمیان اتحاد، ہمدردی اور باہمی تعاون کا بے مثال پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو دانشمندانہ انداز میں بروئے کار لایا جائے تاکہ عالمِ اسلام کو درپیش اہم مسائل کے حل اور اسلامی اقدار و شعائر پر ہونے والی یلغار کے مقابلے میں اس سے مؤثر استفادہ کیا جا سکے۔

اس موضوع پر ہمارے نمائندے کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

گزشتہ چند برسوں کے دوران اربعینِ حسینی کا عظیم مشایہ ایک پائیدار اور غیر معمولی عالمی ظرفیت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں، آزادی پسند انسانوں اور مختلف معاشروں سے تعلق رکھنے والے حق کے متلاشی افراد کی کروڑوں کی تعداد میں شرکت نے عالمِ اسلام کو ایک بے مثال سرمایہ عطا کیا ہے۔

نسل، زبان اور ثقافت کے تمام تر اختلافات کے باوجود لاکھوں انسانوں کا کربلائے معلیٰ کی جانب ایک ہی مقصد کے تحت سفر کرنا اس امر کی روشن مثال ہے کہ اس اجتماع کو اخلاقی اقدار کے فروغ، آزادی کے پیغام کی ترویج اور پوری دنیا میں استقامت و مزاحمت کے جذبے کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس عظیم زیارت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ عالمِ اسلام کے دانشوروں، مفکرین، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات کے درمیان براہِ راست رابطے، مکالمے اور تبادلۂ خیال کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

مشایۂ اربعین میں یہ عملی صلاحیت موجود ہے کہ اسے ایک بین الاقوامی فکری اور فیصلہ ساز مرکز کی شکل دی جائے۔

اگر عاشورائی ثقافت کی روشنی میں مؤثر منصوبہ بندی کی جائے تو یہ مشترکہ فکری فضا عالمِ اسلام کے بنیادی مسائل کے حل، اختلافات کے خاتمے اور اجتماعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی تجاویز میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

سماجی اعتبار سے بھی مشایۂ اربعین ایثار، خدمتِ خلق اور پُرامن بقائے باہمی کا ایک زندہ اور قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ عوامی مواکب کی بے لوث خدمات اور میزبانوں کی بے مثال سخاوت محض چند روزہ مظاہر نہیں بلکہ ایک ایسا اخلاقی سرمایہ ہیں جنہیں انسانی معاشروں میں دائمی برادرانہ طرزِ زندگی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

اسی طرح حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی عظیم قربانی سے اخذ ہونے والا عزت، آزادی اور کرامتِ انسانی کا پیغام ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں استقامت کا ایسا سرچشمہ ہے جس سے بھرپور استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس تناظر میں اربعین کی میڈیا صلاحیتوں کو فعال بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔

ذرائع ابلاغ کو صرف خبریں نشر کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایثار، اخوت اور انسانی ہمدردی کے ان دلکش مناظر کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے اس عظیم اجتماع کو ایک پائیدار عالمی تحریک میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ اربعین کا پیغامِ اتحاد، عزت، آزادی اور انسانیت دنیا بھر کے حق پسند انسانوں تک بھرپور انداز میں پہنچ سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button