12 صفر، واقعۂ حکمیتِ صفین

12 یا 13 صفر 38 ہجری کی صبح حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا لشکر جنگ کے لئے آمادہ تھا، لیکن اسی دوران عمرو بن عاص نے ایک چال چلی اور اپنے لشکر کو حکم دیا کہ قرآن نیزوں پر بلند کر دیے جائیں۔ اس کے نتیجے میں جنگ رک گئی اور یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں فریق اپنی جانب سے ایک ایک حکم (ثالث) مقرر کریں، جن کے فیصلے کو قبول کیا جائے۔
معاویہ نے اپنی طرف سے عمرو بن عاص کو حکم مقرر کیا، جبکہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر حکم مقرر کرنا ناگزیر ہے تو عبدااللہ بن عباس یا مالک اشتر نخعی کو منتخب کیا جائے۔
مگر اشعث بن قیس اور قرّاء کے اس گروہ نے، جو بعد میں خوارج کے نام سے معروف ہوا، ان دونوں شخصیات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور صرف عبداللہ بن قیس المعروف ابو موسی اشعری کے نام پر اصرار کیا۔ یوں ان کی ہٹ دھرمی کے باعث ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص دومۃ الجندل (مدینہ اور شام کے درمیان واقع ایک مقام) میں جمع ہوئے۔
حکمیت کے موقع پر عمرو بن عاص نے اپنی معروف مکاری سے ابو موسیٰ اشعری کو دھوکے میں رکھا۔
روایات کے مطابق ابو موسیٰ نے یہ سمجھتے ہوئے کہ دونوں فریق اپنے اپنے نمائندوں کو معزول کریں گے، پہلے حضرت علی علیہ السلام کو خلافت سے معزول کرنے کا اعلان کیا۔
اس کے بعد عمرو بن عاص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: "تم نے سنا کہ ابو موسیٰ نے علی (علیہ السلام) کو معزول کر دیا ہے۔ میں بھی انہیں معزول کرتا ہوں، لیکن معاویہ بن ابی سفیان کو خلافت کے لئے برقرار رکھتا ہوں اور اسی کی تائید کرتا ہوں۔”
اس طرح عمرو بن عاص نے عہد شکنی اور فریب کے ذریعہ حکمیت کے عمل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔
اس واقعہ کے بعد ابو موسیٰ اشعری، حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب کے ردِّعمل کے خوف سے مکہ چلا گیا۔
بعض شیعہ مصادر میں ابو موسیٰ اشعری کا شمار ان افراد میں بھی کیا گیا ہے جو واقعۂ عقبہ (غدیر کے بعد) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازش کرنے والوں میں شامل تھے۔
حوالہ جات
بحار الأنوار، جلد 33، صفحہ 297–324؛ شجرۂ طوبیٰ، جلد 2، صفحہ 346۔
شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، جلد 13، صفحہ 314–315۔



