10 صفر؛ یوم وفات آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالہادی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخ کے افق پر بعض طلوع ایسے ہوتے ہیں جن کی روشنی صدیوں تک قائم رہتی ہے، اور بعض غروب ایسے کہ جن کے بعد بھی اجالا ماند نہیں پڑتا۔ اہلِ حق کی زندگیاں چراغوں کی مانند ہوتی ہیں؛ وہ بجھتی نہیں بلکہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ ان کے اجسام اگرچہ مٹی کی آغوش میں اتر جاتے ہیں، مگر ان کی فکر، ان کا کردار، ان کی خوشبو اور ان کا نور زمانوں کے سفر میں انسانیت کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔
مرجع زہد و تقویٰ آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالہادی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی آسمانِ فقاہت کے انہی درخشاں آفتابوں میں سے ایک تھے، جن کی پوری زندگی علم کی رفعت، عبادت کی لطافت، زہد کی پاکیزگی، تقویٰ کی عظمت اور مرجعیت کی اہم ذمہ داری کا حسین امتزاج تھی۔ وہ ان مردانِ خدا میں تھے جنہوں نے نہ شہرت کو منزل بنایا، نہ اقتدار کو سرمایہ، نہ مرجعیت کو اعزاز سمجھا، بلکہ ہر نعمت کو امانت اور ہر منصب کو روزِ محشر کی جواب دہی کا عنوان جانا۔
قدرت نے ان کی آزمائش کا آغاز بچپن ہی سے کر دیا تھا۔ ابھی زندگی کی پہلی بہار ہی آئی تھی کہ والدِ گرامی کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا، اور چند ہی برس بعد وہ عظیم مربی آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد حسن شیرازی المعروف بہ میرزائے شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے، جنہوں نے انہیں اپنی محبت و شفقت میں پروان چڑھایا تھا۔ یتیمی کی تلخی نے انہیں کمزور نہیں کیا بلکہ ان کے باطن میں صبر، استقامت اور توکل علی اللہ کا وہ چراغ روشن کر دیا جو آخری سانس تک فروزاں رہا۔
سامرہ کی علمی فضا میں پروان چڑھنے والا یہ سعادت مند طالبِ علم جب نجفِ اشرف پہنچا تو گویا علم و عرفان کے بحرِ بے کراں میں اتر گیا۔ اس نے فقہ سیکھی تو اس کے ساتھ خشیتِ الٰہی بھی سیکھی، اصول پڑھے تو اخلاص کو اپنا سرمایہ بنایا، فلسفہ و حکمت میں مہارت حاصل کی تو دل کو تکبر سے محفوظ رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ محض ایک مجتہد نہیں، بلکہ ایک ربانی عالم، صاحبِ بصیرت مرجع اور نفوس کی تربیت کرنے والے استاد بن گئے۔
کہتے ہیں کہ علم اگر دل میں اتر جائے تو انسان کو جھکا دیتا ہے، اور اگر صرف ذہن تک محدود رہے تو غرور کو جنم دیتا ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالہادی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا علم دل میں اتر چکا تھا۔ ان کے چہرے پر سکون، گفتگو میں وقار، نگاہ میں حیا، خاموشی میں حکمت اور سجدوں میں لرزہ نمایاں تھا۔ وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو محسوس ہوتا جیسے روزِ حساب ان کی آنکھوں کے سامنے ہو اور ایک بندہ اپنے رب کے حضور آخری راز و نیاز میں مشغول ہو۔ علامہ محمدتقی جعفری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے انہیں بارہا نماز میں خوفِ خدا سے لرزتے ہوئے دیکھا۔
مرجعیت کا منصب ان کے سپرد کیا گیا، مگر انہوں نے اسے کبھی اعزاز نہیں سمجھا بلکہ ایک بھاری امانت اور عظیم ذمہ داری جانا۔ لوگ ان کی طرف رجوع کرتے رہے، ان کا رسالۂ عملیہ شائع ہوتا رہا، دنیا بھر سے استفتاءات آتے رہے، مگر دنیا کی چکاچوند کبھی ان کے دروازے سے اندر نہ آسکی۔ برسوں کرائے کے مکان میں زندگی گزارنے والا یہ عظیم مرجع درحقیقت دلوں کی سلطنت کا بادشاہ تھا۔ اس کے پاس مال و دولت کم تھی، مگر اعتماد بے پایاں تھا؛ وسائل محدود تھے، مگر اخلاص لامحدود تھا۔
پھر وہ مرحلہ بھی آیا جب قدرت نے ان کی ظاہری بینائی واپس لے لی۔ آنکھوں کی روشنی بجھ گئی، مگر دل کی بصیرت پہلے سے زیادہ تابندہ ہو گئی۔ درس جاری رہا، فتاویٰ جاری ہوتے رہے، نمازِ جماعت قائم رہی اور دین کی خدمت کا سفر بھی نہ رکا۔ استفتاءات انہیں پڑھ کر سنائے جاتے اور وہ زبانی جواب مرحمت فرماتے۔ گویا وہ اپنی پوری زندگی سے اس حقیقت کی عملی تفسیر پیش کر رہے تھے کہ اصل بینائی آنکھوں کی نہیں، دلوں کی ہوتی ہے۔
ان کی پوری حیات اس حقیقت کی گواہ تھی کہ مرجعیت صرف فقہی مسائل کے جوابات دینے کا نام نہیں، بلکہ امت کے عقیدے، شعور اور ضمیر کی حفاظت کا بھی عنوان ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت انہوں نے اپنے دور کے الحادی اور گمراہ کن نظریات کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کیا، دین کے دفاع کو اپنا شرعی فریضہ سمجھا اور ہر فتنے کے مقابل علم، بصیرت اور استقامت کا چراغ روشن رکھا۔
ان کی شخصیت کا سب سے دل آویز پہلو ان کی بے مثال عاجزی تھی۔ وہ جتنا بلند ہوتے گئے، اتنا ہی زیادہ جھکتے گئے۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا صرف فقہ نہیں سیکھتا تھا، بلکہ ادب، اخلاق، خاموشی، وقار، احترام، تواضع اور خوفِ خدا بھی اپنے دامن میں سمیٹ کر اٹھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی درسگاہ سے نکلنے والے علماء صرف فقہ کے ماہر نہیں بلکہ کردار و اخلاق کے بھی روشن نمونے تھے۔
10 صفر 1382 ہجری کی شام جب یہ آفتابِ فقاہت افقِ دنیا سے غروب ہوا تو نجف کی فضائیں سوگوار ہو گئیں۔ کوفہ سے نجف تک اشکوں کا ایک خاموش دریا بہہ نکلا۔ مسجدِ کوفہ نے اپنے ایک عابدِ شب زندہ دار کو رخصت کیا، حرمِ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام نے اپنے ایک مخلص خادم کو وداع کہا، اور پھر حرمِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے جوار میں علم و تقویٰ کا یہ آفتاب ہمیشہ کے لئے آسودۂ خاک ہو گیا۔ یوں تاریخ نے اپنے اوراق میں علم، تقویٰ، اخلاص اور بندگی کا ایک سنہرا باب ہمیشہ کے لئے ثبت کر لیا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ کبھی نہیں مرتے۔ وہ اپنی کتابوں میں زندہ رہتے ہیں، اپنے شاگردوں کی فکر میں سانس لیتے ہیں، اپنی دعاؤں کی تاثیر میں بولتے ہیں، اپنی محرابوں کے سجدوں میں زندہ رہتے ہیں، اور اپنی سیرت کے ذریعہ ہر اُس انسان کو راستہ دکھاتے رہتے ہیں جو علم کو عبادت، مرجعیت کو خدمت، اور تقویٰ کو زندگی کا سرمایہ سمجھتا ہے۔
آج 10 صفر ہمیں صرف ایک عظیم مرجع کی وفات کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ دن ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیا ہم نے علم کو عمل سے جوڑا؟ کیا ہم نے منصب کو امانت سمجھا؟ کیا ہم نے عبادت کو اپنی زندگی کا محور بنایا؟ کیا ہم نے تقویٰ کو اپنی شخصیت کی بنیاد بنایا؟ اگر ان سوالات کے جواب تلاش کرنے ہوں تو آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالہادی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی حیاتِ طیبہ ایک روشن مینار کی مانند ہمارے سامنے ایستادہ ہے۔
وقت گزر جاتا ہے، تاریخ کے اوراق بدل جاتے ہیں، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، مگر وہ علماء جو اپنے قلم کو رضائے الٰہی کے لئے، اپنی زبان کو حق کی سربلندی کے لئے، اپنی فکر کو امت کی بیداری کے لئے اور اپنی پوری زندگی کو دینِ خدا کی خدمت کے لئے وقف کر دیتے ہیں، وہ کبھی فراموش نہیں ہوتے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید عبدالہادی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی انہی ابدی چراغوں میں سے ایک ہیں، جن کی روشنی آج بھی نجف کے افق سے طلوع ہو کر دنیا بھر کے اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کر رہی ہے، اور رہتی دنیا تک کرتی رہے گی۔




