زیارتِ امام حسین علیہ السلام اور تاریخی رکاوٹیں

تاریخ گواہ ہے کہ ظالم حکمران ہمیشہ کربلا کو ظلم و استبداد کے خلاف بیداری، حق گوئی، آزادی اور مزاحمت کا مرکز سمجھتے رہے۔ اسی لئے انہوں نے ہر دور میں زائرینِ امام حسین علیہ السلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، لیکن ان تمام مظالم، پابندیوں اور سفاکیوں کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔ اہلِ بیت علیہم السلام کے جان نثار ہر زمانے میں جان، مال، آزادی بلکہ اپنے اعضائے بدن تک کی قربانی دے کر کربلا پہنچتے رہے اور عشقِ حسینی کی ایسی لازوال داستانیں رقم کیں جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گئیں۔

ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کے مزارات کی زیارت شیعہ مکتبِ فکر کے اہم ترین شعائر میں شمار ہوتی ہے۔ اہلِ تشیع اپنے ائمۂ معصومین علیہم السلام سے قلبی وابستگی اور والہانہ محبت کے باعث ان کی زیارت کو اپنی دینی اور روحانی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ تمام مقدس زیارت گاہوں میں کربلائے معلیٰ کو ایک منفرد اور مرکزی مقام حاصل ہے۔ حرمِ مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام صدیوں سے اہلِ ایمان کے لئے مرکزِ عقیدت، سرچشمۂ ہدایت، درس گاہِ حریت اور مظلوموں کی جائے پناہ رہا ہے۔
واقعۂ عاشورا کے بعد سے ہی زیارتِ امام حسین علیہ السلام صرف ایک عبادت نہیں رہی بلکہ ظلم کے خلاف احتجاج، حق کی حمایت، اہلِ بیت علیہم السلام سے وفاداری اور دینی شناخت کی علامت بن گئی۔ یہی وجہ تھی کہ اموی، عباسی، وہابی اور بعثی حکمران ہمیشہ اس نور کو بجھانے کی ناکام کوشش کرتے رہے، مگر ہر دور میں عاشقانِ حسینؑ نے ثابت کیا کہ عشقِ حسینؑ کو نہ تلواریں ختم کر سکتی ہیں، نہ زندان اور نہ ہی ظلم و جبر۔
بنو امیہ کے دور میں زائرینِ کربلا پر پابندیاں
سن 61 ہجری میں واقعۂ کربلا کے بعد سے لے کر 132 ہجری میں بنو امیہ کے زوال تک، زائرینِ امام حسین علیہ السلام مسلسل حکومتی ظلم و ستم، نگرانی اور سخت پابندیوں کا سامنا کرتے رہے۔
جو لوگ روضۂ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا پہنچتے تھے، وہ اس عظیم سانحے کو یاد کرکے بنو امیہ کے ظلم و ستم کی حقیقت کو مزید گہرائی سے محسوس کرتے تھے۔ اہلِ بیت علیہم السلام کی مظلومیت ان کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتی، انہیں حق و باطل کی پہچان عطا کرتی اور خاندانِ رسالتؐ کی حقانیت سے روشناس کراتی تھی۔ اسی بنا پر زیارتِ امام حسین علیہ السلام ایک روحانی عبادت کے ساتھ ساتھ ایک فکری، اصلاحی اور انقلابی تحریک بھی بن گئی، جو امت میں شعور، بیداری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا جذبہ پیدا کرتی تھی۔

جب اموی حکمرانوں نے محسوس کیا کہ کربلا عوامی بیداری کا مرکز بنتی جا رہی ہے تو انہوں نے زائرین کی آمد روکنے کے لئے کربلا کے اطراف میں متعدد فوجی چوکیاں قائم کر دیں۔ ان چوکیوں پر تعینات سپاہی نہایت سخت گیر اور ظالم تھے، جو زائرینِ امام حسین علیہ السلام کو ہراساں کرتے، ان پر تشدد کرتے اور انہیں زیارت سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔
(تاریخ کربلا و حائر حسین، ص 60۔61)
ان تمام رکاوٹوں کے باوجود عاشقانِ امام حسین علیہ السلام نے زیارت کا سلسلہ ترک نہ کیا۔ وہ حکومتی نگرانی سے بچنے کے لئے غاضریہ اور نینویٰ جیسے قریبی دیہات کا رخ کرتے، بظاہر انہی مقامات کو اپنی منزل ظاہر کرتے، وہاں کچھ دیر قیام کے بعد خاموشی سے روضۂ اقدس کی طرف روانہ ہو جاتے۔ اگر حکومتی اہلکاروں کے ہاتھ آ جاتے تو انہیں قید، تشدد اور سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا، مگر محبتِ حسین علیہ السلام میں سرشار یہ قافلے کبھی اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔ وہ رات کی تاریکی میں، پیدل، خاموشی سے اور جان کی پروا کئے بغیر کربلا پہنچتے تھے۔

عباسی دور کا آغاز اور منصور دوانیقی کا ظلم
بنو امیہ کے زوال کے بعد عباسیوں نے اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت اور ان کے خونِ ناحق کا بدلہ لینے کے نعروں کے ساتھ اقتدار حاصل کیا، لیکن حکومت مستحکم ہوتے ہی ان کی پالیسیاں بھی بنو امیہ سے مختلف ثابت نہ ہوئیں۔ انہوں نے بھی روضۂ امام حسین علیہ السلام کی بے حرمتی، اس کی تخریب اور زائرین پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا۔
تاریخی روایات کے مطابق، روضۂ امام حسین علیہ السلام کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی کرنے والا پہلا عباسی خلیفہ منصور دوانیقی تھا۔ وہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام، فرزندانِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے محبّین سے شدید عداوت رکھتا تھا۔ اس کے ظلم و استبداد کی شدت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس عہد کے جلیل القدر علماء نے بھی اس کی مخالفت کی۔ یہاں تک کہ اہلِ سنت کے دو بڑے فقہاء، امام ابو حنیفہ اور امام مالک بن انس نے بھی اس کی بیعت کو شرعی طور پر لازم قرار نہیں دیا۔
(تاریخ کربلا و حائر حسین، ص 137)
ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی ترغیب
جب زیارتِ امام حسین علیہ السلام جان و مال کے لئے خطرہ بن چکی تھی، اس وقت بھی ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے مؤمنین کے حوصلے بلند کئے۔ خصوصاً حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے خوف و خطر کے عالم میں بھی زیارتِ امام حسین علیہ السلام کی عظیم فضیلت بیان فرمائی اور شیعوں کو اس عبادت پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔
زرارہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا: "جو شخص خوف کی حالت میں آپؑ کے والد گرامی کی زیارت کرے، اس کے بارے میں آپؑ کیا فرماتے ہیں؟”
امامؑ نے فرمایا: "قیامت کے دن، جب ہر طرف خوف و ہراس ہوگا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو امن عطا فرمائے گا، اور فرشتے اسے بشارت دیتے ہوئے کہیں گے: نہ خوف کرو اور نہ غمگین ہو، آج کا دن تمہارے لئے کامیابی اور نجات کا دن ہے۔”
(کامل الزیارات، ص 125)
یہی وہ تعلیمات تھیں جنہوں نے ظلم و جبر کے اندھیروں میں بھی اہلِ ایمان کے دلوں میں زیارتِ امام حسین علیہ السلام کی شمع روشن رکھی، اور ہر دور میں زائرین کو خطرات کے باوجود کربلا کی جانب روانہ ہونے کا حوصلہ عطا کیا۔
متوکل عباسی کے دور میں روضۂ امام حسین علیہ السلام کی تخریب اور زائرین پر مظالم
منصور دوانیقی کی وفات اور ہارون الرشید کے برسرِ اقتدار آنے کے درمیانی تقریباً سات سالہ عرصے (158 تا 165 ہجری) میں اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کو نسبتاً زیادہ آزادی میسر رہی، چنانچہ وہ پہلے کی نسبت زیادہ اطمینان کے ساتھ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا جاتے رہے۔
تاہم ہارون الرشید نے اپنے دورِ حکومت کے آخری ایام میں جب دیکھا کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے عوام کی محبت روز بروز بڑھ رہی ہے اور کربلا میں زائرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تو اس نے روضۂ مطہرِ امام حسین علیہ السلام کے آثار و نشانات مٹانے کا حکم دے دیا۔ اس کے حکم پر روضۂ اقدس کے اطراف کی عمارتیں منہدم کی گئیں اور زائرین کی آمد و رفت محدود کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ اقدامات بھی زیارت کے جذبے کو کم نہ کر سکے۔
سن 232 ہجری میں متوکل عباسی کے برسرِ اقتدار آتے ہی اہلِ بیت علیہم السلام سے دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ متوکل نے نہ صرف زائرینِ امام حسین علیہ السلام پر بے پناہ مظالم ڈھائے بلکہ روضۂ مطہر کی بے حرمتی اور تخریب کو اپنی باقاعدہ حکومتی پالیسی بنا لیا۔ روایات کے مطابق اس نے اپنے دورِ خلافت میں چار مرتبہ حائرِ حسینی کو منہدم کرنے کا حکم دیا۔
انہی اقدامات میں سے ایک موقع پر اس نے ابراہیم دیزج کو، جو ایک یہودی تھا، روضۂ مبارک کی تخریب پر مامور کیا۔ وہ اپنے کارندوں کے ساتھ کربلا پہنچا اور حائرِ حسینی میں پانی چھوڑ دیا تاکہ اس مقدس مقام کو زیرِ آب لا کر اس کی شناخت مٹا دی جائے اور وہاں کھیتی باڑی کی جا سکے۔
اس کے بعد زمین پر ہل چلانے کے لئے بیل لائے گئے، لیکن ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ جب بھی بیلوں کو روضۂ امام حسین علیہ السلام کی طرف ہانکا جاتا، وہ آگے بڑھنے سے انکار کر دیتے، حالانکہ دوسری سمتوں میں بآسانی چلتے تھے۔ یوں دشمنوں کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیِ برحق کے مزارِ اقدس کی حرمت کو نمایاں فرما دیا۔
(بحار الانوار، ج 45، ص 394)
زیارت پر پابندیاں اور زائرین کی گرفتاریاں
جب متوکل کو معلوم ہوا کہ روضۂ امام حسین علیہ السلام اس کی حکومت کے خلاف بیداری اور مزاحمت کا مرکز بنتا جا رہا ہے اور لوگ رات کی تاریکی میں بھی زیارت کے لئے کربلا پہنچتے ہیں، تو اس نے شہرِ کربلا کے اطراف میں فوجی چوکیاں اور نگرانی کے مراکز قائم کر دیے۔ سپاہیوں کو حکم دیا گیا کہ جو شخص بھی زیارتِ امام حسین علیہ السلام کے ارادے سے آتا دکھائی دے، اسے فوراً گرفتار کر لیا جائے۔
(بحار الانوار، ج 45، ص 404)
کچھ ہی عرصے بعد متوکل نے اعلان کروایا کہ اگر تین دن کے بعد کسی شخص کو قبرِ امام حسین علیہ السلام کے اطراف دیکھا گیا تو اسے گرفتار کر کے زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔ بعض تاریخی روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر کوئی زائر راستے میں پکڑا جاتا تو اسے قتل کر دیا جاتا یا انتہائی سخت سزا دی جاتی۔
ظلم کی انتہا یہ تھی کہ متوکل نے حکم دیا کہ روضۂ امام حسین علیہ السلام کی زیارت صرف اس صورت میں ممکن ہوگی کہ زائر اپنا دایاں ہاتھ کٹوانے پر آمادہ ہو۔ لیکن اس ہولناک سزا کے باوجود بھی عاشقانِ امام حسین علیہ السلام نے زیارت ترک نہ کی، بلکہ ہر قسم کی قربانی دے کر اس مقدس سفر کو جاری رکھا۔
(از ظہور اسلام تا سقوط بغداد)
عشقِ حسین علیہ السلام کی لازوال مثال
مشہور مؤرخ مسعودی اپنی کتاب مروج الذہب میں لکھتے ہیں کہ ایک خاتون روضۂ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے اپنا نام درج کرانے آئیں۔ سزا کے طور پر انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔ اہلکاروں نے کہا: "زیارت کی قیمت بایاں نہیں بلکہ دایاں ہاتھ ہے۔”
اس پر اس خاتون نے نہایت استقامت سے اپنا پہلے سے کٹا ہوا دایاں ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا: "میرا دایاں ہاتھ تو تم لوگ گزشتہ سال ہی کاٹ چکے ہو!”
یہ منظر اس بات کی روشن دلیل تھی کہ عشقِ حسین علیہ السلام کے سامنے ظلم کی ہر طاقت بے بس ہو جاتی ہے۔
(تاریخ خلافت عباسی، از آغاز تا پایان آل بویہ)
متوکل کے مظالم میں مزید اضافہ
ان تمام سختیوں کے باوجود متوکل کو دوبارہ اطلاع ملی کہ لوگ جوق در جوق حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ اقدس کی زیارت کے لئے جا رہے ہیں۔ اس پر اس نے اپنے ایک سپہ سالار کو لشکر کے ساتھ کربلا روانہ کیا اور حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کیا جائے کہ زائرینِ قبرِ امام حسین علیہ السلام سے براءت اختیار کی جائے، عوام کو زیارت سے روکا جائے، اور آلِ ابی طالب علیہم السلام اور ان کے شیعوں کا تعاقب کیا جائے۔
چنانچہ بے شمار شیعوں کو گرفتار کیا گیا، بڑی تعداد میں انہیں شہید کر دیا گیا، اور ظلم و ستم کا ایک نیا باب رقم کیا گیا۔
(تاریخ طبری، ج 14، ص 6036؛ البدایہ والنہایہ، ج 10، ص 315؛ مقاتل الطالبیین، ص 395)
ظلم کی شدت یہاں تک پہنچ گئی کہ متوکل نے حکم دیا: "جو شخص صرف زیارت کا ارادہ بھی کرے، اسے قتل کر دیا جائے۔” اس کے باوجود زیارت کا سلسلہ نہ رکا۔
چوتھی مرتبہ روضۂ مطہر کی تخریب
متوکل کی جانب سے روضۂ مطہرِ امام حسین علیہ السلام کی چوتھی تخریب نیمۂ شعبان کے موقع پر کی گئی، جب ہزاروں عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام شوق و عقیدت کے ساتھ کربلا میں حاضر ہوتے تھے۔
اس مرتبہ بھی روضۂ اقدس کی بے حرمتی کی گئی، زائرین کو گرفتار کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور بڑی تعداد میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ لیکن ان تمام مظالم کے باوجود نہ زیارت کا سلسلہ رکا اور نہ ہی اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت میں کوئی کمی آئی۔
اسی گھٹن بھرے اور خوفناک ماحول میں حضرت امام علی نقی ہادی علیہ السلام نے مؤمنین کو زیارتِ کربلا کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ کے لئے زمین میں کچھ ایسے مقامات ہیں جہاں وہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اور حائرِ حسینیؑ انہی مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔”
(کامل الزیارات، ص 273؛ الکافی، ج 4، ص 567)
حضرت امام علی نقی ہادی علیہ السلام بعض اوقات اپنے اصحاب میں سے کسی کو اپنا نائب مقرر فرماتے تاکہ وہ آپؑ کی طرف سے کربلا کی زیارت کرے اور وہاں آپؑ کے لئے دعا کرے۔ یہ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سخت ترین حکومتی پابندیوں کے باوجود ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے زیارتِ امام حسین علیہ السلام کی عظمت اور اہمیت کو ہمیشہ زندہ رکھا۔
وہابیوں کا حملہ اور روضۂ امام حسین علیہ السلام کی بے حرمتی
عباسی حکومت کے خاتمے کے کئی صدیوں بعد بھی روضۂ امام حسین علیہ السلام دشمنانِ اہلِ بیت کی عداوت کا مرکز بنا رہا۔ 1216 ہجری میں ایک نہایت دردناک سانحہ پیش آیا، جب وہابیوں نے اچانک کربلائے معلیٰ پر دہشت گردانہ حملہ کر دیا۔
اس وقت شہر کے باشندے اس یلغار سے بے خبر تھے۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے شہر کے دروازے بند کر دیے، لیکن حملہ آوروں نے دروازے توڑ کر شہر میں داخل ہونے کے بعد قتل و غارت، لوٹ مار اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کا بازار گرم کر دیا۔
حملہ آوروں نے حرمِ مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام اور حرمِ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کو شدید نقصان پہنچایا، روضۂ اقدس کے قریب تقریباً پچاس زائرین کو شہید کر دیا، جبکہ صحنِ مطہر میں پانچ سو سے زائد افراد کو قتل کیا گیا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق اس اندوہناک حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی۔
(روضۃ الصفای ناصری، ص 381۔382)
یہ حملہ صرف ایک شہر یا ایک مقدس مقام پر نہیں تھا، بلکہ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت، اسلامی تہذیب اور مذہبی شعائر پر ایک منظم یلغار تھی۔ تاہم اس خونریز سانحے کے باوجود نہ زیارت کا سلسلہ رکا اور نہ ہی عشقِ حسین علیہ السلام کی شمع مدھم ہوئی۔
بعثی حکومت اور صدام حسین کے مظالم
گزشتہ صدی میں، خصوصاً صدام حسین اور بعثی حکومت کے دورِ اقتدار میں بھی زیارتِ کربلا کی راہ میں سخت رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
1397 ہجری میں اربعینِ حسینی کے موقع پر عراقی مؤمنین نے اپنی قدیم روایت کے مطابق دریائے فرات کے کنارے واقع غیر سرکاری راستوں سے پیدل کربلا کا سفر اختیار کیا۔ یہ عظیم پیدل مارچ رفتہ رفتہ بعثی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت کی علامت بن گیا، جس کے نتیجے میں بعثی افواج اور زائرینِ امام حسین علیہ السلام کے درمیان شدید تصادم ہوا۔
اس المناک واقعہ میں بڑی تعداد میں زائرین شہید اور زخمی ہوئے، اور یہی سانحہ تاریخ میں "اربعینِ خونین” کے نام سے معروف ہوا۔
چند برس بعد 1411 ہجری (1991ء کے مشہور عراقی انتفاضہ) کے دوران صدام حسین نے نجفِ اشرف اور کربلائے معلیٰ میں نہتے عوام پر بدترین فوجی کارروائیاں کیں۔ توپوں، ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں کے ذریعہ ہزاروں افراد کو شہید اور زخمی کیا گیا، جبکہ حرمِ مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام اور حرمِ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے گنبدوں اور روضوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
صدام نے بعثی فوج کے ایک جنرل کو حکم دیا کہ حرمینِ شریفین (روضہ امام حسین علیہ السلام و روضہ حضرت عباس علیہ السلام) میں موجود زائرین پر حملہ کر دیا جائے۔ ظلم کی انتہا یہ تھی کہ اس نے یہ حکم بھی صادر کیا کہ جن افراد کو سکیورٹی اہلکار گرفتار کریں، انہیں وہیں، جائے گرفتاری پر ہی فوراً سزائے موت دے دی جائے۔
یہ تمام مظالم اس حقیقت کا ثبوت تھے کہ استبدادی حکومتیں ہمیشہ کربلا کو آزادی، بیداری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھتی رہی ہیں، اسی لئے وہ زائرینِ امام حسین علیہ السلام کو اپنا سب سے بڑا فکری خطرہ تصور کرتی تھیں۔
زیارتِ کربلا: عشقِ حسین علیہ السلام کا لازوال سفر
تاریخ کے مختلف ادوار پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ زیارتِ کربلا کی راہ میں ہر زمانے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ کبھی بنو امیہ نے ظلم و جبر کا بازار گرم کیا، کبھی عباسی حکمرانوں نے روضۂ امام حسین علیہ السلام کو منہدم کرنے کی کوشش کی، کبھی وہابیوں نے حرمِ حسینی پر حملہ کیا اور کبھی بعثی حکومت نے زائرین کا خون بہایا۔ لیکن ظلم و استبداد کی کوئی طاقت نہ زیارتِ امام حسین علیہ السلام کو روک سکی اور نہ ہی عشقِ حسین علیہ السلام کی حرارت کو سرد کر سکی۔
آج بھی دنیا کے مختلف ممالک سے کروڑوں عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام ہر سال کربلائے معلیٰ کا رخ کرتے ہیں۔ وہ طویل مسافتیں، مالی مشکلات، جسمانی مشقت اور دیگر تمام دشواریاں خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر ہے۔
کربلا کا پیغام صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق، عدالت، آزادی، وفاداری اور خدا پرستی کا دائمی منشور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جتنا ظلم بڑھتا گیا، زیارتِ امام حسین علیہ السلام کا جذبہ بھی اتنا ہی فروغ پاتا گیا، اور آج اربعینِ حسینی دنیا کا سب سے بڑا سالانہ پُرامن انسانی اجتماع بن چکا ہے۔
اسی حقیقت کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت جامع انداز میں یوں بیان فرمایا: "إِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ حَرَارَةً فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَبْرُدُ أَبَدًا”
"بے شک حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے سبب اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک ایسی حرارت موجود ہے جو کبھی سرد نہیں ہوگی۔”
(مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ج 10، ص 318)
یہی وہ ابدی حرارت ہے جس نے ہر دور میں ظلم کے ایوانوں کو لرزایا، اہلِ ایمان کو استقامت عطا کی، اور کربلا کو رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی روشن علامت بنا دیا۔




