
قاہرہ: مصر کی انسانی حقوق کی تنظیم "مصری اقدام برائے شخصی حقوق” (EIPR) نے محرم اور صفر کے ایام میں قاہرہ میں شیعہ شہریوں کی مبینہ گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے گرفتار افراد کی فوری رہائی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف سیکیورٹی اقدامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق محرم و صفر کے دوران قاہرہ میں کم از کم 20 شیعہ شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ وکلا کے مطابق ان میں سے 19 افراد کے لئے مصر کی سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوشن نے 15 روزہ عارضی حراست کا حکم جاری کیا اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
حقوق انسانی کی ویب سائٹ المنصہ کی رپورٹ کے مطابق EIPR نے کہا ہے کہ گرفتار افراد کو دورانِ حراست اپنے بنیادی حقوق، جن میں اہل خانہ سے رابطہ اور قانونی معاونت (وکیل تک رسائی) شامل ہے، سے محروم رکھا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران سوالات زیادہ تر ان کے مذہبی عقائد، فقہی نظریات، شیعہ و سنی فقہ کے تقابل اور محرم کی مذہبی رسومات کے انعقاد سے متعلق کئے گئے۔
"مصری اقدام برائے شخصی حقوق” (EIPR) نے کہا کہ مصر کے قوانین میں شیعہ مذہب کی پیروی جرم نہیں، اس لیے عقائد اور مذہبی وابستگی کی بنیاد پر کارروائیاں آزادیٔ مذہب اور آزادیٔ عقیدہ کے بنیادی حق کے منافی ہیں۔
تنظیم کے مطابق گزشتہ سال کے آغاز سے اب تک مصر میں اسی نوعیت کے الزامات کے تحت کم از کم 79 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے سیکیورٹی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
انسانی حقوق تنظیم نے مصری اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار افراد کی حراست ختم کر کے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے اور خودسرانہ گرفتاریوں و مذہبی عقائد سے متعلق تفتیش کا سلسلہ بند کیا جائے۔
حقوق انسانی کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر امتیازی رویے اور سیکیورٹی دباؤ نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے متصادم ہیں بلکہ معاشرے میں مذہبی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔




