پاکستان

اربعین حسینی کے زائرین کی سہولت کے لئے مستقل سیل کے قیام اور زمینی راستوں کی فوری بحالی کا مطالبہ

اربعین حسینی کے زائرین کی سہولت کے لئے مستقل سیل کے قیام اور زمینی راستوں کی فوری بحالی کا مطالبہ

پاکستان کے مذہبی رہنماؤں اور ماہرین نے سرحدی گزرگاہوں پر بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی سے متعلق درپیش سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ایران، پاکستان اور عراق کے درمیان مشترکہ سہ فریقی حکمتِ عملی تشکیل دینے اور اربعین حسینی کے زائرین کی محفوظ، باوقار اور آسان آمدورفت کے لیے زمینی راستوں کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اربعین حسینی کے عظیم اجتماع کے قریب آتے ہی پاکستان میں زائرین کی آمدورفت کو منظم اور سہل بنانے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

ہر سال پاکستان سے لاکھوں عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام کربلائے معلیٰ کی زیارت کے لیے روانہ ہوتے ہیں، لیکن سرحدی گزرگاہوں پر انتظامی کمزوریوں، ناکافی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے پاکستان، ایران اور عراق کے درمیان مؤثر تعاون، فعال مذہبی سفارت کاری اور مضبوط سیاسی عزم ناگزیر ہے۔

اسی تناظر میں کراچی کے معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر صابر ابو مریم نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں زائرین کی آمدورفت ان کا بنیادی حق اور ان کی مذہبی و ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ مشکلات کے حل کے لیے پاکستان، ایران اور عراق کے درمیان مؤثر سہ فریقی تعاون کو عملی شکل دی جائے۔

انہوں نے تفتان اور ریمدان سرحدی گزرگاہوں پر بنیادی سہولیات کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے "اربعین حسینی زائرین کے مستقل رابطہ و انتظامی سیل” کے قیام کی تجویز پیش کی، جو ویزا، سرحدی انتظامات اور دیگر خدمات میں ہم آہنگی پیدا کرے۔

ان کے مطابق ڈیجیٹل رجسٹریشن نظام کی توسیع، کوئٹہ۔تفتان ریلوے لائن کی بحالی اور کراچی سے چابہار کے درمیان مسافر بردار بحری سروس کا آغاز زائرین کے اخراجات میں کمی اور سفری سہولتوں میں اضافے کے لیے مؤثر اقدامات ثابت ہوں گے۔

دوسری جانب پاکستان کی مذہبی تنظیموں نے بھی اربعین سے قبل فوری حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچستان میں مجلس وحدت مسلمین کے صدر سہیل اکبر شیرازی نے موجودہ پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے تمام زمینی راستوں کو فوری طور پر زائرین کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بندش یا سفری پابندیوں نے بالخصوص کم آمدنی والے زائرین پر شدید مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ ڈالا ہے۔

انہوں نے وزارتِ داخلہ اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے اپیل کی کہ شاہراہوں کی مکمل سیکیورٹی یقینی بنائی جائے اور شہریوں کے مذہبی شعائر کی ادائیگی کے حق کا تحفظ کیا جائے، تاکہ زائرین عزت، وقار اور اطمینان کے ساتھ بلا رکاوٹ عتباتِ عالیات کی زیارت کے لیے روانہ ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button