جن علاقوں میں طلوع و غروبِ آفتاب معمول کے مطابق نہیں ہوتا، وہاں نماز اور روزے کا وقت متعارف علاقوں کے اوقات کے مطابق ہوگا: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
جن علاقوں میں طلوع و غروبِ آفتاب معمول کے مطابق نہیں ہوتا، وہاں نماز اور روزے کا وقت متعارف علاقوں کے اوقات کے مطابق ہوگا: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست بدھ، 29 محرم الحرام 1448 ہجری کو منعقد ہوئی۔
حسبِ معمول اس نشست میں آپ نے شرکاء کی جانب سے مختلف فقہی مسائل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات عنایت فرمائے۔
ایک سوال کے جواب میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے ایسے علاقوں میں نماز اور روزے کے حکم کی وضاحت فرمائی، جہاں کئی ماہ تک مسلسل دن یا مسلسل رات رہتی ہے۔ آپ نے فرمایا: عروۃ الوثقی میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص قطبِ شمالی یا قطبِ جنوبی جیسے ایسے علاقوں کا سفر کرے، جہاں چھ ماہ مسلسل دن اور چھ ماہ مسلسل رات رہتی ہو، اور معمول کے مطابق طلوع و غروبِ آفتاب نہ ہوتا ہو، تو وہ متعارف علاقوں کے اوقات کے مطابق اپنی پانچوں نمازیں ادا کرے اور انہی اوقات کے مطابق روزے بھی رکھے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید فرمایا کہ صاحب عروۃ الوثقی کے اس نظریہ کی متعدد فقہائے کرام نے بھی تائید کی ہے، اور میری رائے بھی یہی ہے۔




