2 صفر الاحزان؛ یوم شہادت حضرت زید شہید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

حق و عدالت کی راہ کے عظیم علمبردار
واقعۂ کربلا کے بعد جب بنو امیہ کی ظالمانہ حکومت نے اسلامی معاشرے کو ظلم، جبر اور استبداد کی تاریکی میں دھکیل دیا تو اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کے مخلص پیروکاروں نے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے احیاء، ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام کے لئے مختلف ادوار میں قیام کئے۔ انہی تاریخ ساز تحریکوں میں حضرت زید بن علی بن الحسین علیہم السلام کا عظیم قیام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جسے ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی تائید و تحسین حاصل تھی۔
حضرت زید شہید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزند، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے برادرِ گرامی اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے چچا تھے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمۂ معصومین علیہم السلام نے متعدد روایات میں آپ کی فضیلت، عظمت اور شہادت کی بشارت دی ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے آپ کو "سَيِّدُ أَهْلِ بَيْتِي” قرار دیتے ہوئے اہلِ بیت علیہم السلام کے خون کا بدلہ لینے والا مجاہد فرمایا، جبکہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میرے چچا نے اسی راہ میں شہادت پائی جس راہ میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے وفادار جانثار شہید ہوئے۔
حضرت زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ علم، عبادت، زہد، تقویٰ اور جہاد کا حسین امتزاج تھے۔ اہلِ مدینہ آپ کو "حلیفُ القرآن” یعنی قرآن کا ساتھی کہا کرتے تھے۔
آپ نے کبھی امامت کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ متعدد مواقع پر اپنے زمانے کے واجب الاطاعت امام، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، اور ان کے بعد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی امامت کی صراحت فرمائی۔
آپ کے قیام کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں تھا، بلکہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، ظلم و ستم کا خاتمہ، امت کی اصلاح اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے خونِ ناحق کا انتقام لینا تھا۔
ہشام بن عبدالملک کے دربار میں جب اہلِ بیت علیہم السلام کی شان میں گستاخی کی گئی تو حضرت زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے نہایت جرأت و استقامت کے ساتھ حق کا دفاع کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ اگر میرے ساتھ صرف ایک شخص بھی باقی رہے تو بھی میں ظلم کے خلاف قیام سے دستبردار نہیں ہوں گا۔
کوفہ میں ہزاروں افراد نے آپ کی نصرت اور بیعت کا عہد کیا، لیکن وقتِ آزمائش میں حسبِ سابق اہلِ کوفہ نے عہد شکنی کی اور آپ کو تنہا چھوڑ دیا۔ آپ شدید زخمی ہوئے اور 2 صفر الاحزان 122 ہجری کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔
ابتدا میں آپ کو مخفی طور پر دفن کیا گیا، لیکن ایک غدار کی اطلاع پر اموی گورنر یوسف بن عمر نے قبر کھدوا کر جسدِ مبارک کو نکلوایا، سولی پر لٹکایا اور اسے چار برس تک عبرت گاہ بنائے رکھا، پھر اسے نذرِ آتش کر دیا۔ یہ ظلم تاریخِ اسلام کے المناک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
حضرت زید شہید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام ظلم کے سامنے خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ حق، عدل، عزت اور دینِ خدا کے دفاع کا مکتب ہے۔ آپ کا قیام ہر دور کے اہلِ ایمان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ حق کی خاطر قربانی، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانا ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔
2 صفر الاحزان حضرت زید شہید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا یومِ شہادت ہے۔ اس موقع پر عالمِ اسلام، بالخصوص محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام، اس عظیم مجاہد، عالمِ ربانی اور شہیدِ راہِ حق کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی سیرتِ مبارکہ سے حق پر ثابت قدم رہنے، ظلم کے خلاف قیام کرنے اور دینِ الٰہی کی سربلندی کے لیے ہر قربانی پیش کرنے کا درس حاصل کرتے ہیں۔




