
انسانی حقوق کی تازہ رپورٹس کے مطابق چین کے صوبہ سنکیانگ (مشرقی ترکستان) میں اویغور مسلم اقلیت کے خلاف حکومتی پالیسیاں صرف ان کی ثقافتی شناخت محدود کرنے تک نہیں رہیں، بلکہ ایک وسیع پیمانے پر جبری مشقت (Forced Labour) کے نظام کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔
یہ نظام تشویشناک حد تک دنیا کی بڑی کثیر القومی کمپنیوں کی سپلائی چین میں سرایت کر چکا ہے، جس سے عالمی تجارت اور انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
اس موضوع پر ہمارے نمائندے کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کا انسانی بحران اب عالمی منڈیوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔
انسانی حقوق کے نگران اداروں کے مطابق چینی حکومت "افرادی قوت کی منتقلی کے ذریعہ غربت کے خاتمہ” جیسے منصوبوں کے تحت لاکھوں اویغور مسلمانوں کو سخت سکیورٹی نگرانی والے کارخانوں میں جبری مشقت پر مجبور کر رہی ہے۔
ان کارکنوں کو انتہائی کم اجرت دی جاتی ہے، جبکہ ان کی نقل و حرکت خاردار تاروں، نگرانی کے سخت انتظامات اور جدید چہرہ شناس (فیشل ریکگنیشن) نظام کے ذریعہ محدود رکھی جاتی ہے۔
آسٹریلین اسٹریٹیجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ASPI) اور اقوام متحدہ کی تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق اس جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات دنیا کی بڑی صنعتوں کی سپلائی چین کا حصہ بن چکی ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے تقریباً ایک پانچواں حصے کے سوتی ملبوسات، 35 فیصد سولر گریڈ پولی سلیکان، اور آٹوموبائل و الیکٹرانکس کی صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال کا ایک بڑا حصہ اسی متنازع سپلائی چین سے وابستہ ہے۔
رپورٹس میں 83 معروف بین الاقوامی کمپنیوں، جن میں ایپل، نائکی، ایڈیڈاس، سام سنگ، بی ایم ڈبلیو اور ہواوے شامل ہیں، کے نام ایسے خریداروں کے طور پر سامنے آئے ہیں جو مبینہ طور پر 80 ہزار سے زائد اویغور جبری مزدوروں کے تیار کردہ سامان یا پرزہ جات سے وابستہ سپلائی چین سے منسلک رہے ہیں۔
ان انکشافات کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور جبری مشقت کے خلاف سرگرم عالمی اتحادوں نے شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کیا ہے۔
ان رپورٹس کے بعد امریکہ اور یورپی یونین نے ایسے سامان کی درآمد پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ صرف امریکہ میں ان قوانین کے تحت تقریباً 24 ہزار تجارتی کھیپیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 95 کروڑ امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے، ضبط یا واپس کر دی گئی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے باعث متنازع مصنوعات کی سپلائی چین مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس کا رخ آسٹریلیا، جاپان اور دیگر درمیانی معیشتوں کی جانب ہو گیا ہے، جہاں نگرانی کے قوانین نسبتاً کمزور ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر مالیت کی مصنوعات ان علاقوں سے درآمد کی جاتی ہیں۔
اگرچہ چینی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مہم قرار دیتی ہے، تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے کو روکنے کے لیے مربوط عالمی اقتصادی دباؤ، خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف مؤثر اقدامات، اور چین کو بین الاقوامی محنت کش معاہدوں پر عمل درآمد کا پابند بنانا ناگزیر ہے۔




