خبریںیمن

یمن میں افریقی تارکینِ وطن کی آمد میں تشویش ناک اضافه

گزشتہ چند ماہ کے دوران یمن کے ساحلی علاقوں میں افریقہ کے خطۂ شاخِ افریقہ سے آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی آمد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یمن میں پہلے ہی جاری بدترین سکیورٹی اور معاشی بحران کے دوران تارکینِ وطن کی اس بڑھتی ہوئی لہر نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ افراد استحصال، بھتہ خوری اور انسانی اسمگلنگ کے منظم گروہوں کے شکنجے میں پھنس سکتے ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی خاموشی کے باعث یہ صورتحال یمن کے کمزور ریاستی ڈھانچے پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔

اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی یہ رپورٹ ملاحظہ کیجیے۔

جزیرہ نمائے عرب کی تازہ صورتحال پر کی جانے والی زمینی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ افریقہ سے یمن کی جانب غیر قانونی ہجرت کی رفتار غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔

یہ افراد سمندری سفر کے انتہائی خطرات مول لے کر خلیجی ممالک تک پہنچنے کی امید میں یمن کا رخ کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر جنگ زدہ یمن ہی میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔

اس دوران انہیں سمندر میں ڈوب جانے، گرفتاری، بھتہ خوری، انسانی اسمگلنگ اور اعضا کی غیر قانونی تجارت جیسے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں اور یمنی حکومت نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ مسلح گروہ اور جرائم پیشہ نیٹ ورک ان مسلمان اور غیر مسلم تارکینِ وطن کی مالی مجبوری اور کمزور حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، صرف گزشتہ جون کے مہینے میں یمن پہنچنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد 13 ہزار 339 ریکارڈ کی گئی، جو مئی کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران یمن پہنچنے والے افریقی تارکینِ وطن کی مجموعی تعداد 97 ہزار 174 ہو گئی ہے۔

یہ ایک تشویش ناک اعداد و شمار ہیں، جو تقریباً گزشتہ پورے سال کے مجموعی ریکارڈ کے برابر ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی نگرانی کرنے والی ٹیموں کے تجزیے کے مطابق، تقریباً 80 فیصد تارکینِ وطن نے اپنا سفر جبوتی کے ساحل سے شروع کیا اور ان کی اکثریت صوبہ ابین اور تعز پہنچی، جبکہ باقی 20 فیصد صومالیہ کے ساحل سے روانہ ہو کر صوبہ شبوہ میں داخل ہوئے۔

دوسری جانب اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے یمنی حکام نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک قومی ورکنگ گروپ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس کا مقصد متعلقہ اداروں کی کارروائیوں کو مربوط بنانا اور اسمگلنگ کے منظم مافیا کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا ہے، کیونکہ اس صورتحال کے تسلسل نے خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خطرہ پیدا کردیا ہے.

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button