شام

شام میں شدید غذائی بحران آئندہ سال تک برقرار رہنے کا خدشہ

شام کے بعض علاقوں میں فصلوں کی پیداوار میں نسبتاً بہتری کے باوجود ملک کے شمالی حصوں میں شدید غذائی بحران اور غذائی عدم تحفظ بدستور تشویشناک سطح پر برقرار ہے۔

شدید معاشی مشکلات، موسمی آمدنی میں کمی، ایندھن اور زرعی اخراجات میں اضافہ، نیز موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خوراک تک رسائی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔

قحط کی ابتدائی وارننگ کے نظام کے نیٹ ورک (FEWS NET) کی رپورٹ کے مطابق شمال مشرقی اور شمال مغربی شام میں غذائی عدم تحفظ کی سنگین صورتحال جنوری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ چند ماہ کے دوران یہ بحران مغربی صوبہ لاذقیہ تک بھی پھیل سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا زیادہ تر فائدہ خوشحال خاندانوں کو پہنچا، جبکہ غریب خاندان اپنی محدود آمدنی قرضوں کی ادائیگی میں صرف کرنے پر مجبور ہو گئے۔

روزنامہ عرب نیوز کے مطابق دریائے فرات کے کنارے آنے والے سیلاب اور فصل کی کٹائی کے موسم میں لگنے والی وسیع آتش زدگیوں، جن کے نتیجے میں ہزاروں ہیکٹر زرعی اراضی تباہ ہو گئی، نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

اس کے علاوہ سرکاری سبسڈی والی روٹی کے کوٹے میں کمی اور قومی کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے کمزور اور نادار طبقوں پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button