تاریخ اسلام

26 محرم؛ مکہ مکرمہ کا محاصرہ

واقعۂ کربلا، واقعۂ حرّہ اور مکہ مکرمہ کا محاصرہ اسلامی تاریخ کے ایسے المناک ابواب ہیں جو یہ حقیقت آشکار کرتے ہیں کہ جب اقتدار ظلم، جبر اور دین دشمنی کے تابع ہو جائے تو نہ اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمت محفوظ رہتی ہے اور نہ ہی بیت اللہ کی عظمت برقرار رہتی ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق، امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد حجاز میں یزیدی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت نے زور پکڑا۔ اہلِ مکہ نے یزیدی کارندوں کو شہر سے نکال دیا، جس کے بعد یزید نے شام سے ایک لشکر روانہ کیا۔

مشہور مؤرخ ابن اثیر اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں لکھتے ہیں کہ 26 محرم 64 ہجری کو یزیدی فوج نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا۔ شہر کے اطراف کی بلند پہاڑیوں پر منجنیقیں نصب کر کے سنگ باری شروع کی گئی، اور سپہ سالار حصین بن نمیر کے حکم پر مسجد الحرام اور خود خانہ کعبہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ محاصرہ تقریباً 45 دن تک جاری رہا۔ (الکامل فی التاریخ، جلد 4، صفحہ 124)

یہ واقعہ محض ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ اس فکر کی علامت ہے جو اقتدار کی خاطر دینی مقدسات، انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کو بھی پامال کر دیتی ہے۔ اسی طرح جب بھی کسی دور میں ظلم، استبداد، حق دشمنی اور مقدسات کی بے حرمتی سامنے آئے، وہ یزیدی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔

آج بھی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم، مقدسات کی بے حرمتی اور بے گناہ انسانوں کی جانوں کا ضیاع پوری امتِ مسلمہ کے لئے باعثِ تشویش ہے۔ ظلم کی ہر صورت کی مخالفت اور ہر مظلوم کی حمایت اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضہ ہے۔

امام حسین علیہ السلام کا پیغام ہر دور میں عدل، آزادی، بصیرت، استقامت اور ظلم کے خلاف قیام کا ابدی منشور ہے۔ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآنِ کریم، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے مستند تاریخ کو نئی نسل تک منتقل کرے، اتحاد و بصیرت کو فروغ دے اور ہر دور کی ظالمانہ فکر کا علم، اخلاق اور حق گوئی کے ذریعے مقابلہ کرے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button