احکام میں تزاحم کی صورت میں ائمۂ معصومین علیہم السلام سے متعلق شعائر کو ترجیح حاصل ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے روزانہ علمی نشست کا انعقاد بدھ، 22 محرم الحرام 1448ھ کو ہوا۔
جس میں حسبِ سابق حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے گئے۔
اس موقع پر آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے شعائرِ دینی اور بعض ایسے اعمال کے درمیان تزاحم کے بارے میں، جن کا معمول کے حالات میں الگ حکم ہوتا ہے، فرمایا: "فقہی دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی عمل عرفاً شعائرِ دینی میں شمار ہو اور اس کا تعلق ائمۂ معصومین علیہم السلام سے ہو، تو ایسے موقع پر شعائر کو مقدم رکھا جائے گا۔”
مزید فرمایا: "کتاب عروة الوثقى” میں مذکور ہے کہ مشاہدِ مشرفہ، جیسے حضرت امام حسین علیہ السلام کا روضۂ مبارک، احکام کے اعتبار سے مساجد کی مانند ہیں۔ اس کے باوجود بعض فقہاء کے نزدیک مسجد کو سونے اور چاندی سے مزین کرنا حرام ہے اور بعض کے نزدیک مکروہ، لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام کے ضریحِ مبارک میں سونے اور چاندی کا استعمال نہ حرام ہے اور نہ مکروہ؛ کیونکہ یہ شعائرِ حسینی اور تعظیمِ شعائرِ الٰہی کا مصداق ہے۔”




