
عرب لیگ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے سوڈان کی ریاست شمالی کردفان کے شہر الابیض میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ شہر کا مسلسل محاصرہ اور میزائل و ڈرون حملے اسے ایک بے مثال انسانی اور سلامتی کے بحران کے دہانے پر لے آئے ہیں۔
مڈل ایسٹ نیوز کے مطابق، شہر الابیض میں پانچ لاکھ سے زائد شہری اور جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے دسیوں ہزار افراد، ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔
ان حملوں میں بازاروں، اسکولوں، اسپتالوں اور پانی و بجلی جیسی بنیادی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو گئی ہے۔
عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نبیل فہمی نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو الفاشر شہر جیسے المناک واقعات دوبارہ پیش آ سکتے ہیں، جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی واضح مثال ہیں۔
عرب لیگ نے فوری طور پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے، پانچ فریقی طریقۂ کار کے تحت جنگ بندی کو یقینی بنانے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ایک جامع سیاسی عمل کے آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ سخت انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھی محصور شہر الابیض میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی فوری تحقیقات کے لئے ایک قرارداد منظور کی ہے۔




