بنگلہ دیش

جنوبی بنگلہ دیش میں موسلا دھار بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ، آٹھ روہنگیا مسلم پناہ گزین جاں بحق

جنوبی بنگلہ دیش میں موسلا دھار بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ، آٹھ روہنگیا مسلم پناہ گزین جاں بحق

جنوب مشرقی بنگلہ دیش میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں نے ایک بار پھر مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے انسانی المیے کو سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔

کاکس بازار کے گنجان آباد پناہ گزین کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم آٹھ روہنگیا مسلم پناہ گزین، جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں، نیند کے دوران جاں بحق ہو گئے۔ اس سانحے نے میانمار سے بے گھر ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی غیر محفوظ زندگی اور قدرتی آفات کے سامنے ان کی شدید بے بسی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

آئیے، اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی یہ رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں۔

برسوں سے اپنے گھروں سے بے دخل روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کی آزمائشیں اب قدرتی آفات کے باعث مزید سنگین ہو گئی ہیں۔

جنوب مشرقی بنگلہ دیش میں قائم عارضی پناہ گاہوں سے موصول ہونے والی تازہ اطلاعات کے مطابق، پناہ گزین کیمپوں کے چار مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد لکڑی اور پلاسٹک سے بنی جھونپڑیاں ملبے تلے دب گئیں۔

یہ افسوس ناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ان کمزور پناہ گاہوں میں مقیم افراد سو رہے تھے۔

اس لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں نہ صرف کئی روہنگیا پناہ گزین جاں بحق ہوئے بلکہ کاکس بازار کے شہری علاقے میں ایک بنگلہ دیشی شہری بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی برناما نے کاکس بازار کے مقامی حکام اور پولیس کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ علاقے کے سینئر پولیس افسر تومبا داس کے مطابق مسلسل موسلا دھار بارشوں کے باعث اسی نوعیت کے مزید حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے، کیونکہ ہزاروں روہنگیا مسلم پناہ گزین غیر مستحکم اور خطرناک پہاڑی ڈھلوانوں پر قائم کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

دوسری جانب خبر رساں ایجنسی آئی آئی این اے کے مطابق، بنگلہ دیش میں امدادی سرگرمیوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کے امور کے ذمہ دار محمد میزان الرحمٰن نے بتایا ہے کہ خطرناک علاقوں میں رہنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ہنگامی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

اس وقت بارہ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان، جو 2017 میں میانمار کی فوج کے تشدد سے بچ کر بنگلہ دیش پہنچے تھے، انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ذرائع ابلاغ نے خبردار کیا ہے کہ میانمار کی ریاست راکھین میں بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے پیش نظر روہنگیا پناہ گزینوں کی ایک نئی لہر کے بنگلہ دیش کا رخ کرنے کا خدشہ ہے۔

یہ صورتِ حال اس انسانی بحران کے مستقل حل کے لیے عالمی برادری اور اسلامی ممالک کی فوری مداخلت کی ضرورت کو مزید بڑھا رہی ہے۔

دریں اثنا، ان غیر مستحکم پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں صحت، علاج اور دیگر بنیادی سہولتوں کی شدید قلت کے باعث حالیہ سیلاب کے بعد متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جس سے ان گنجان آباد کیمپوں میں مقیم ہزاروں بے گناہ پناہ گزینوں کی زندگیاں شدید خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button