شیخ الطائفہ حضرت شیخ محمد بن حسن طوسی رحمۃ اللہ علیہ

22 محرم الحرام، یومِ وفات شیخ الطائفہ حضرت شیخ محمد بن حسن طوسی رحمۃ اللہ علیہ، بانیِ حوزۂ علمیہ نجف اور معمارِ فقہِ امامیہ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ آپ کی ذات اسلامی تاریخ کی ان نابغۂ روزگار ہستیوں میں شمار ہوتی ہے جو اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ صدیوں تک امت کی علمی، فکری اور دینی رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔ آپ ایک عظیم فقیہ، محدث، مفسر، متکلم، اصولی اور رجالی ہونے کے ساتھ ساتھ حوزۂ علمیہ نجف کے مؤسس بھی تھے، اور آج ایک ہزار برس گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے علماء و طلبہ اسی مرکز سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔
ولادت اور علمی سفر کا آغاز
شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ رمضان 385 ہجری قمری میں طوس، خراسان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی شہر میں حاصل کی، پھر علم کی تشنگی بجھانے کے لیے 408 ہجری قمری میں، محض 23 برس کی عمر میں، بغداد کا رخ کیا جو اس دور میں عالمِ اسلام کا سب سے بڑا علمی مرکز تھا۔ وہاں شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ، جو اس وقت عالمِ تشیع کی علمی قیادت اور مرجعیت کے حامل تھے، کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے اور اپنی ذہانت و محنت کے باعث جلد ہی ممتاز شاگردوں میں شمار ہونے لگے۔ خود شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "الفہرست” میں بیان کرتے ہیں کہ شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نے قریباً دو سو کتابیں تصنیف کیں، جن میں سے متعدد انہوں نے براہِ راست پڑھیں یا سماعت کیں۔ یہ شاگردی تقریباً پانچ برس پر محیط رہی مگر شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی بنیاد میں بنیادی کردار ادا کر گئی۔
سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردی
413 ہجری قمری میں شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ نے سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردی اختیار کی، جو اُس وقت شیعہ دنیا کی علمی و دینی زعامت کے حامل تھے۔ 23 برس تک ان سے فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، تفسیر، لغت اور ادب کی تحصیل کی، اور بقول خود اکثر تصانیف براہِ راست پڑھیں، باقی سماعت کیں۔
زعامتِ شیعہ اور بغداد کا علمی عروج
436 ہجری قمری میں سید مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے وصال پر شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ تشیع کے سب سے بڑے علمی و دینی رہنما بن گئے۔ تقریباً بارہ برس بغداد میں تدریس، تحقیق، مناظرہ، تصنیف اور افتاء میں گزارے، اور آپ کی فقاہت، تقویٰ اور وسعتِ علم کے اعتراف میں امت نے آپ کو "شیخ الطائفہ” کا معزز لقب عطا کیا۔
ظلم و ستم اور نجف کی طرف ہجرت
پانچویں صدی ہجری کے وسط میں سلجوقی حکمران طغرل بیگ کے بغداد پر قبضے کے بعد شیعوں پر شدید مظالم ڈھائے گئے۔ محلہ کرخ تباہ ہوا، شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں اور کرسیِ تدریس نذرِ آتش کی گئیں، حتیٰ کہ زائرینِ نجف کا سامان بھی جلا دیا گیا۔ ان حالات میں بغداد کا علمی مرکز منتشر ہو گیا اور شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے نجفِ اشرف کی طرف ہجرت کی۔
حوزۂ علمیہ نجف کی بنیاد
اُس وقت نجفِ اشرف ایک مختصر بستی تھی۔ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی آمد کے بعد آپ کے شاگرد اور طالبانِ علم بھی وہاں منتقل ہونے لگے، یوں وہ عظیم علمی مرکز وجود میں آیا جو آج تک حوزۂ علمیہ نجف کے نام سے فقہِ جعفری اور علومِ اہلِ بیت علیہم السلام کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ مفید، علی بن الغضائری، ابن الصلت اور سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رضوان اللہ تعالی علیہم نمایاں ہیں۔
علمی خدمات اور عظیم تصانیف
آپ نے حدیث، فقہ، اصول، رجال، تفسیر، کلام اور دعا میں تقریباً 51 جلدوں پر مشتمل تصانیف یادگار چھوڑیں، جن میں تہذیب الاحکام، الاستبصار (کتبِ اربعہ میں شامل)، التبیان فی تفسیر القرآن، المبسوط، النہایہ، الخلاف، العدۃ فی الاصول، الغیبۃ، الفہرست، رجالِ شیخ طوسی اور مصباح المتہجد جیسی شاہکار کتابیں شامل ہیں، جو آج بھی بنیادی مراجع شمار ہوتی ہیں۔
وفات حسرت آیات
460 ہجری قمری کے محرم میں، 22 محرم کی شب، شیخ الطائفہ رحمۃ اللہ علیہ 76 برس کی عمر میں علم، عبادت اور خدمتِ دین کی زندگی گزار کر اپنے ربِ کریم سے جا ملے۔ آپ کو نجفِ اشرف میں آپ کی رہائش گاہ میں سپردِ خاک کیا گیا، جو بعد میں آپ کی وصیت کے مطابق مسجدِ طوسی میں تبدیل ہو گئی۔
448 ہجری قمری میں قائم ہونے والا یہ علمی سلسلہ 1448 ہجری قمری میں ایک ہزار برس مکمل کر رہا ہے، اور ان شاء اللہ ظہورِ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک یہ چراغِ علم و ہدایت فروزاں رہے گا۔




