یورپ

انتخابی مہم میں سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی کی جانب سے سخت بیان بازی اور اسلام مخالف اقدامات میں شدت، ملک کی مسلم برادری میں تشویش

انتخابی مہم میں سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی کی جانب سے سخت بیان بازی اور اسلام مخالف اقدامات میں شدت، ملک کی مسلم برادری میں تشویش

یورپ میں انتہا پسند جماعتوں کی سرگرمیوں میں اضافہ اور اسلام مخالف بیانیہ کے زور پکڑنے کے باعث ایک بار پھر خطہ کی مذہبی اقلیتوں اور مسلمانوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔

اس نوعیت کے تخریبی طرزِ عمل کو آزادیِ عقیدہ کے اصول اور پیروانِ ادیانِ الٰہی کے تحفظ سے متعلق واضح بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

الجزیرہ نیوز نیٹ ورک نے ’الکومپس‘ میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پارلیمان میں دائیں بازو کی جماعت ’سویڈن ڈیموکریٹس‘ کے نمائندے رچرڈ یومسوف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران توہین آمیز اور کھلے طور پر اسلام مخالف بیانات دیتے ہوئے مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مذہب اور مذہبی عقائد سے دست بردار ہوجائیں۔

اسی طرح اخبار ’ڈی این‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس جماعت نے اپنی انتخابی مہم کے ایجنڈے میں مساجد کو مسمار کرنے، ماہِ مبارک رمضان کی مذہبی روایات پر عمل روکنے اور ملک بھر میں اذان نشر کرنے پر پابندی جیسے دیگر متنازع منصوبے بھی شامل کیے ہیں۔

یہ اقدامات اور انتہا پسندانہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پیو ریسرچ سینٹر کے اندازے کے مطابق سویڈن کی تقریباً 10 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، جبکہ اس ملک کا آئین بھی مذہبی بنیاد پر ہر قسم کے امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button