آسٹریا میں ۱۴ سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پر پابندی کی تجویز، عالمی سطح پر شدید احتجاج

آسٹریا کی حکومت نئے تعلیمی سال سے اسکولوں میں ۱۴ سال سے کم عمر مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کی تیاری میں ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ متنازعہ قانون اب عملی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اسکول اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں۔ اس قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے والے خاندانوں پر آٹھ سو یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ یہ منصوبہ انتہا پسند دائیں بازو جماعتوں کی حمایت سے تیار ہوا، جبکہ گرین پارٹی اور شہری اداروں نے اسے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ آسٹریا کی مسلم کمیونٹی کی نمائندہ تنظیم IGGÖ نے اسے مسلمان خواتین کے خلاف امتیازی پالیسی قرار دیتے ہوئے آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یورپ اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اس اقدام کی مذمت کی ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ ویانا کے اسکولوں میں مسلمان طلبہ کی تعداد ساڑھے اڑتیس فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔




