پاکستانی شیعوں کا زمینی زیارتی راستے فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ

کربلا اور مشہد جانے والے زائرین سے حکومتی بے توجہی پر شدید تنقید
پاکستان میں سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے ایام عزاداری کے دوران شیعہ عوام کی جانب سے مذہبی اور شہری حقوق سے متعلق مطالبات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اہلِ بیتِ عصمت و طہارت علیہم السلام کے پیروکاروں نے واقعۂ کربلا کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو امن، انصاف اور ظلم کے خلاف استقامت کی علامت قرار دیتے ہوئے حکومت سے عراق اور ایران کے زمینی زیارتی راستے فوری طور پر بحال کرنے اور زائرین کے سفر میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان مطالبات میں مذہبی آزادی، زائرین کے شہری حقوق کے احترام اور گزشتہ کئی برسوں سے جاری غیر یقینی صورتحال کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق مذہبی شخصیات نے حکومتِ پاکستان کے غیر سنجیدہ اور غیر مؤثر رویے کو لاکھوں حسینی زائرین میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور ناراضی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف شیعہ سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کربلائے معلیٰ اور مشہد مقدس جانے والے زمینی راستوں کی مسلسل بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے پاکستانی شیعہ برادری کو گہری اضطرابی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی، سیاسی عزم اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو یہ زمینی راستے ایک ہفتے کے اندر دوبارہ کھولے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس مطالبے کو اپنا آئینی اور قانونی حق قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔




