دریاؤں میں آلودگی پھیلانا شرعاً حرام، دفترِ آیت اللہ سیستانی
دریاؤں میں آلودگی پھیلانا شرعاً حرام، دفترِ آیت اللہ سیستانی
نجف اشرف: مرجعِ عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ الوارف کے دفتر نے عراق میں دریاؤں کی بڑھتی ہوئی آلودگی پر شرعی رہنمائی جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر معالجہ شدہ سیوریج کا پانی، کوڑا کرکٹ (ٹھوس کچرا)، طبی فضلہ اور مختلف قسم کے کیمیائی آلودہ مواد دریاؤں میں پھینکنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اس سے عوام کو عمومی نقصان پہنچتا ہے، لہٰذا ایسا عمل حرام ہے۔
دفترِ مرجعیت کو جماعتِ مؤمنین کی جانب سے ارسال کیے گئے استفسار میں عراق کے دریاؤں پر تجاوزات اور آلودگی کی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی گئی تھی۔ استفسار میں کہا گیا کہ بعض افراد غیر معالجہ شدہ سیوریج کا پانی، کوڑا کرکٹ، طبی فضلہ اور مختلف کیمیائی فضلات دریاؤں میں پھینک رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پانی شدید آلودہ ہو رہا ہے اور ماحول کے ساتھ ساتھ انسانی صحت پر بھی نہایت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مرجعِ عالی قدر سے شرعی رہنمائی کی درخواست کی گئی تھی۔
اس کے جواب میں دفترِ آیت اللہ سیستانی نے اپنے بیان میں فرمایا کہ غیر معالجہ شدہ سیوریج کا پانی، کوڑا کرکٹ (ٹھوس کچرا)، طبی فضلہ اور کیمیائی آلودہ مواد دریاؤں میں ڈالنا جائز نہیں، کیونکہ اس سے عوام کو عمومی نقصان پہنچتا ہے اور ایسا عمل شرعاً حرام ہے۔ مزید یہ کہ بعض صورتوں میں اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری بھی متعلقہ افراد پر عائد ہوگی۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ قوانین اور ہدایات کی خلاف ورزی کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ساتھ ہی ذمہ دار اداروں پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ مذکورہ فضلات کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے مناسب اور متبادل ذرائع فراہم کریں۔
دفترِ مرجعیت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ دانش مندی، ذمہ داری اور اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق پورے معاشرے کے مشترکہ مفاد سے ہے۔
یہ جواب 15 محرم الحرام 1448 ہجری کو جاری کیا گیا۔ جس کا اردو ترجمہ شعبہ استفتاءات دفتر نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ باب النجف لکھنو نے شائع کیا۔




