
لیبیا کی صدارتی کونسل نے ایک یکطرفہ فیصلے کے ذریعہ انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ حسین العائب کو ان کے عہدے سے برطرف کرکے عبدالمجید ملیقطہ کو نیا سربراہ مقرر کر دیا۔
اس فیصلے پر صدارتی کونسل کے نائب سربراہ موسی الکونی نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے اتفاقِ رائے سے محروم اور غیر قانونی قرار دیا۔
ان کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے اہم فیصلے متعلقہ اداروں کی مشاورت اور آئینی تقاضوں کے مطابق کیے جانے چاہییں۔
دوسری جانب لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح نے بھی ملک کی موجودہ نازک سیاسی صورتحال میں ریاستی سلامتی کے اداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے خلاف خبردار کیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ تازہ تنازع لیبیا میں سرکاری اداروں کے اتحاد، سیاسی عمل کی پیش رفت اور عام انتخابات کے انعقاد کے لیے جاری کوششوں کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے ملک میں جاری سیاسی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔




