ماتمی انجمنیں اور حسینی شعائر

قصرِ استبداد میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام کا حق گوئی کا اعلان؛ اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ابنِ زیاد کے دربار اور زندانِ کوفہ میں آمد

قصرِ استبداد میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام کا حق گوئی کا اعلان؛ اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ابنِ زیاد کے دربار اور زندانِ کوفہ میں آمد

13 محرم الحرام 61 ہجری کو خاندانِ عصمت و طہارت علیہم السلام کے مظلوم و ستم رسیدہ قافلے کو سخت حفاظتی حصار اور غم و اندوہ سے لبریز فضا میں شہرِ کوفہ لایا گیا۔ عبیداللہ بن زیاد کے حکم پر پہلے اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو اس کے ناپاک دربار میں حاضر کیا گیا اور بعد ازاں زندانِ کوفہ منتقل کر دیا گیا۔

یہ دل خراش واقعہ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور امام زین العابدین حضرت امام سجاد علیہ السلام کے جرأت مندانہ اور حق آشکار خطبات سے مزین ہوا، جنہوں نے بنو امیہ کی ظالمانہ حکومت کی بنیادیں ہلا دیں اور قاتلانِ کربلا کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔

آئیے، اس واقعہ کی تفصیل ہمارے ساتھی کی رپورٹ میں ملاحظہ کرتے ہیں:

واقعۂ عاشورا اور حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے وفادار اصحاب کی عظیم شہادت کے بعد، یزیدی لشکر نے اہلِ بیتِ رسولؐ کی خواتین اور معصوم بچوں کو قیدی بنا کر کوفہ کی جانب روانہ کیا۔

13 محرم کو عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا سرِ اقدس اس کے سامنے رکھا جائے اور اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو، جنہیں رسیوں میں جکڑا گیا تھا، دارالامارہ میں حاضر کیا جائے۔

ظاہری فتح کے غرور میں مبتلا ابنِ زیاد نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے تمسخر آمیز لہجے میں کہا: "تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جس نے تمہیں رسوا کیا اور تمہیں قتل کر دیا۔”

اس پر عقیلۂ بنی ہاشم نے کمالِ استقامت اور شجاعت کے ساتھ ایسا جواب دیا جس نے اس کے اقتدار کے غرور کو پاش پاش کر دیا۔ آپؑ نے فرمایا: "ما رأيتُ إلّا جميلاً” "میں نے تو اللہ کی راہ میں صرف حسن و جمال ہی دیکھا ہے۔”

اسی طرح امام زین العابدین حضرت سجاد علیہ السلام نے بھی اپنے پرجلال کلمات سے ابنِ زیاد کے ظلم اور باطل دعووں کو بے نقاب کر دیا۔

اہلِ بیت علیہم السلام کے ان خطبات نے اموی حکومت کی عسکری کامیابی کو سیاسی، اخلاقی اور فکری شکست میں تبدیل کر دیا۔

کوفہ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام کے بیدارگر خطبات نے غفلت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان کے دلوں میں ندامت، پشیمانی اور ظلم کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر پیدا کر دی۔

ان خطبات نے یہ واضح کر دیا کہ عاشورا کا پیغام شہادت پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد حق کی تبلیغ اور ظلم کے خلاف بیداری کی ایک نئی تحریک کا آغاز ہوا، جہاں اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے الفاظ شمشیروں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئے اور انہوں نے کربلا کی حقیقت کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔

ابنِ زیاد نے جب حالات کو اپنے خلاف ہوتے دیکھا اور اسے کوفہ میں عوامی بغاوت کا اندیشہ محسوس ہوا تو اس نے صورتِ حال پر قابو پانے اور ہر قسم کی عوامی تحریک کو روکنے کے لئے حکم دیا کہ اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو سخت فوجی نگرانی میں کوفہ کے تاریک زندان میں منتقل کر دیا جائے۔

آج بھی دنیا بھر میں اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والے 13 محرم کے موقع پر مجالسِ عزا منعقد کرتے ہیں، خطباتِ کوفہ و شام کی یاد تازہ کرتے ہیں اور کربلا کے ان عظیم پیغام رساں اسیران کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

یہی وہ الٰہی اور ابدی پیغام تھا جس نے اموی پروپیگنڈے کو ناکام بنا دیا، واقعۂ عاشورا کو تحریف سے محفوظ رکھا اور یزیدی کردار کو ہمیشہ کے لئے تاریخ کے سامنے رسوا کر دیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button