افغانستانخبریں

پہلے مسلمان افغانی خلاباز کا انتقال، جو قرآنِ کریم کو خلا میں لے گئے

افغانستان کے پہلے خلاباز اور دنیا کے پہلے مسلمان خلاباز عبدالاحد مومند، جو اپنے ساتھ قرآنِ کریم کا ایک نسخہ خلا میں لے گئے تھے، جرمنی میں مرضِ سرطان سے طویل جنگ کے بعد اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

التواصل کی رپورٹ کے مطابق عبدالاحد مومند نے سنہ 1988ء میں سوویت یونین کے خلائی اسٹیشن "میر” کی جانب اپنے تاریخی سفر کے ذریعے اپنا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے درج کرا لیا۔

اس خلائی سفر کے دوران انہوں نے خلا میں کلامِ الٰہی کی تلاوت فرمائی، جس نے اس وقت پوری دنیا میں گہری توجہ اور والہانہ داد و تحسین حاصل کی۔

اس 29 روزہ مہم کے دوران انہوں نے خلائی اسٹیشن سے پشتو زبان میں اپنی والدہ محترمہ سے گفتگو بھی فرمائی، اور اس طرح پشتو وہ چوتھی زبان بن گئی جو خلا میں بولی گئی۔

اس یگانۂ روزگار شخصیت کے انتقالِ پُرملال پر ملکی اور بین الاقوامی شخصیات اور اداروں نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مومند کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں افغان قوم کا ایک سچا اور فخر آفریں نمائندہ قرار دیا۔

عبدالاحد مومند 1959ء میں صوبۂ غزنی کے گاؤں سردی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے کابل تشریف لے گئے اور بالآخر بحیثیتِ فوجی پائلٹ اور خلاباز اپنے ملک کے لیے ایک تاریخی اعزاز حاصل کیا

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button