ماتمی انجمنیں اور حسینی شعائرہندوستان

ہندوستان بھر میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کی عظیم شہادت کا تذکرہ، مجالسِ عزا اور جلوس شبیہ تابوت برآمد

محرم الحرام کی 6 تاریخ کو ملک بھر میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرزندِ ارجمند حضرت علی اکبر علیہ السلام کی عظیم شہادت کی یاد میں مجالسِ عزا، جلوس شبیہ تابوت برآمد ہوئے۔ قدیمی عزاداری روایات کے مطابق مختلف شہروں میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کے فضائل، سیرت، شجاعت اور شہادت کا خصوصی تذکرہ کیا گیا۔

دارالحکومت دہلی، ممبئی، حیدرآباد، لکھنؤ، امروہہ، چنئی سمیت ملک کے متعدد چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں عزاداروں نے مجالسِ عزا میں شرکت کی۔ علماء، ذاکرین اور خطباء نے اپنے خطابات میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت، میدانِ کربلا میں آپؑ کی بے مثال قربانی اور حق و صداقت کے لئے پیش کی جانے والی لازوال شہادت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مقررین نے کہا کہ حضرت علی اکبر علیہ السلام نے جوانانِ امت کے لئے ایثار، وفاداری، شجاعت اور اطاعتِ امام کا ایسا نمونہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ رہے گا۔ انہوں نے واقعۂ کربلا کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوان نسل کو حضرت علی اکبر علیہ السلام کے کردار و سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے کی تلقین کی۔

اس موقع پر کئی مقامات پر قدیم روایات کے مطابق شبیہ تابوت برآمد کیا گیا، جس میں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سوز خوانوں، مرثیہ خوانوں اور نوحہ خوانوں نے منظوم انداز میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کے مصائب بیان کئے، جسے سن کر حاضرین اشک بار ہو گئے۔

ملک بھر میں منعقد ہونے والی ان عزاداری میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور اتحاد و یکجہتی، امن اور سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button