ممبئی میں محرم: عزاداری، علمی مجالس اور دینی روایت کا درخشاں مرکز

ممبئی میں محرم الحرام کی عزاداری صدیوں پر محیط ایک عظیم مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً ڈونگری، بھنڈی بازار، بائیکلہ، ممبرا اور میرا روڈ میں یکم سے دسویں محرم تک مجالسِ عزا، ماتمی جلوس، مرثیہ خوانی اور سبیلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جن میں ہزاروں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔
ممبئی کی عزاداری اور مجالسِ عزا کی تاریخ ممتاز علماء و خطباء کی خدمات سے بھی روشن ہے۔ ماضی میں خطیب الایمان مولانا سید مظفر حسین طاہر جرولی مرحوم، خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری مرحوم، مولانا سید عباس رضوی مرحوم اور مولانا غلام حسنین کراروی مرحوم نے برسوں یہاں مجالس سے خطاب کرکے دینی و فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ اسی طرح خطیبِ اکبر مولانا مرزا محمد اطہر مرحوم نے مسجد ایرانیان میں مسلسل تقریباً 57 برس تک عشرۂ اولیٰ کی مجالس سے خطاب کرکے ایک منفرد تاریخ رقم کی۔
رواں سال بھی ممبئی کی مختلف امام بارگاہوں اور دینی مراکز میں ممتاز علماء و ذاکرین مجالسِ عزا سے خطاب کر رہے ہیں، جن میں مولانا سید نجیب الحسن زیدی، مولانا مرزا اعجاز اطہر، مولانا مرزا یعسوب عباس، مولانا مرزا جعفر عباس اور مولانا سید روح ظفر رضوی کے علاوہ دیگر علماء و ذاکرین شامل ہیں۔
محرم کی یہ مجالس نہ صرف شہدائے کربلا کی یاد کو تازہ کرتی ہیں بلکہ حق، عدل، ایثار، خدمتِ خلق اور انسانی اقدار کے فروغ کا بھی مؤثر ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محرم آج بھی ممبئی کی مذہبی و تہذیبی شناخت کا ایک اہم اور زندہ باب سمجھا جاتا ہے۔




