کوہستان میں محرم؛ ماسولہ کے باسیوں کی 800 سالہ روایتِ عزا کی تجدید

ماہِ محرم کے چھٹے اور ساتویں دن کی آمد کے ساتھ ہی تاریخی شہر ماسولہ میں 800 سالہ قدیم رسم "علم بندان” کا آغاز ہو جاتا ہے۔
یہ منفرد مذہبی روایت، جو ایران کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل ہے، اپنے مخصوص عمودی طرز کے علموں کے باعث منفرد شناخت رکھتی ہے۔ ماسولہ کی پلکانی طرزِ تعمیر سے ہم آہنگ یہ علم نہ صرف گہرے روحانی مفاہیم کے حامل ہیں بلکہ گیلان کے پہاڑی خطہ میں مذہبی سیاحت کی ایک نمایاں علامت بھی بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال اس موقع پر عزاداروں، زائرین اور عوامی ثقافت کے محققین کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔
محرم کی آمد کے ساتھ ہی ماسولہ کا مہ آلود اور سرسبز پہاڑی ماحول نوحہ خوانی کی پرسوز آوازوں اور عزاداروں کی آمد و رفت سے ایک روحانی منظر پیش کرنے لگتا ہے۔
گھر گھر اور گلی گلی سیاہ پرچم اور پرچمِ عزا آویزاں کئے جاتے ہیں تاکہ کربلا کے غم و اندوہ کی یاد پورے علاقہ کی فضا میں نمایاں ہو جائے۔
دن کے ابتدائی اوقات سے ہی شہر کے چاروں تاریخی محلوں کے بزرگ، معتمدین اور خدام، علموں کے مختلف اجزا کو ایک قدیم اور منظم روایت کے مطابق اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھنے کہر کے درمیان امام زادہ حضرت عون بن محمد بن علی علیہ السلام کے مزارِ مبارک تک لے جاتے ہیں، جہاں ان کی صفائی، غبارروبی اور تیاری کی رسومات انجام دی جاتی ہیں۔
روضۂ مبارک کے صحن میں سینہ زنی کی صدائیں بلند ہوتے ہی سبز پارچے، عاشورائی علامتیں اور حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام سے عقیدت و محبت کے نشانات بزرگ خدام اور پیرغلامان کے ہاتھوں علموں پر آویزاں کئے جاتے ہیں۔
مداح حضرات تالشی اور گیلکی زبانوں میں نوحے اور مرثیے پیش کرتے ہیں، جن کے سوز و گداز سے فضا رقت انگیز ہو جاتی ہے اور ہر سننے والا غمِ حسین علیہ السلام میں ڈوب جاتا ہے۔
اس قدیم رسم کی سب سے نمایاں خصوصیت ماسولہ کے علموں کا منفرد عمودی ڈیزائن ہے، جو اسے ملک کے دیگر علاقوں کی مشابہ روایات سے ممتاز بناتا ہے۔
علموں کی یہ روایتی اور فنی ساخت ماسولہ کی پلکانی طرزِ تعمیر، سنگ فرش گلیوں، تنگ راستوں اور گھروں کی چھتوں پر قائم گزرگاہوں سے مکمل مطابقت رکھتی ہے، جس کے باعث انہیں دشوار گزار پہاڑی راستوں اور ڈھلوانوں پر باآسانی منتقل کیا جا سکتا ہے۔
علم بندی کی رسومات مکمل ہونے کے بعد ہر محلے کے عزاداری دستے تاریخی ترتیب کے مطابق اپنے اپنے علم کو صلوات اور مرثیہ خوانی کے درمیان کندھوں پر اٹھا کر شہر کی چاروں مرکزی مساجد کی جانب لے جاتے ہیں، جہاں یہ علم محرم کے پہلے عشرے کے اختتام تک سوگواری اور وفاداریِ اہلِ بیت علیہم السلام کی علامت کے طور پر نصب رہتے ہیں۔
اسی دوران خواتین عزادار لوبان کی دھونی دیتی اور علم اٹھانے والوں پر گلاب چھڑکتی ہیں، یوں وہ اہلِ بیت علیہم السلام سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شہر کے مختلف مقامات پر وسیع نذری دسترخوان بچھائے جاتے ہیں، جہاں دور دراز علاقوں سے آنے والے زائرین اور عزاداروں کی پرتکلف میزبانی کی جاتی ہے۔
یوں یہ شاندار اور صدیوں پر محیط روایت نہ صرف حضرت امام حسین علیہ السلام سے عشق و وفاداری کی تجدید کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ گیلان کے عوام کے مضبوط ایمان، ثقافتی تشخص اور تاریخی ورثے کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کرتی ہے۔




