
حالیہ فوجی کشیدگی نے ایران کی سیاحتی صنعت کی ترقی کے جاری عمل کو تقریباً مکمل طور پر روک دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق براہِ راست نقصانات میں کم از کم 62 سیاحتی مراکز، ہوٹلوں اور بین الریاستی سروس کمپلیکسز کا متاثر ہونا یا خدمات کے دائرے سے خارج ہو جانا شامل ہے۔
یہ مراکز ایران کے 12 صوبوں میں واقع ہیں، جن میں سرحدی صوبوں، خصوصاً کرمانشاہ اور مغربی آذربائیجان، میں سب سے زیادہ نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پروازوں کی وسیع پیمانے پر منسوخی اور سکیورٹی انتباہات کے علاوہ، اندرونِ ملک سیاحت بھی اپنی رونق کھو چکی ہے۔

حالیہ نقل و حرکت کا زیادہ تر مقصد سیاحت نہیں بلکہ نسبتاً محفوظ علاقوں میں پناہ لینا رہا ہے۔
جرمن نشریاتی ادارہ ڈیوچے ویلے (Deutsche Welle) کے فارسی شعبہ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس جمود کے حقیقی اثرات سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔
رپورٹ میں سیاحتی شعبہ سے وابستہ صحافیوں اور ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بہت سے چھوٹے کاروبار، ٹریول ایجنسیاں اور مقامی بوم گردی (دیہی سیاحتی) مراکز مکمل بندش کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
سیاحتی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقہ کی سلامتی پر سیاحوں کا اعتماد دوبارہ بحال کرنا ایک طویل اور دشوار عمل ہوگا، اور اس صنعت کی بحالی سیاسی استحکام کی واپسی سے مشروط ہے۔




