
انڈونیشیا کے حکام نے صوبۂ مغربی سماٹرا میں واقع تاریخی مسجد "توو آمپانگ گادانگ” کی مرمت اور بحالی کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔
1834ء میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد خطہ کی قدیم ترین اسلامی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے اور تاریخی و ثقافتی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔
انڈونیشیا کی حکومت کا ارادہ ہے کہ بحالی کا کام مکمل ہونے کے بعد اس مسجد کو ملک کے نمایاں ثقافتی اور مذہبی سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جائے۔
روزنامہ "اسٹریٹس ٹائمز” کی رپورٹ کے مطابق مسجد کی مرکزی عمارت کی مرمت و بحالی کا عمل بدستور جاری ہے۔
منصوبہ کے نگران حکام کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں مسجد کے اطراف کے علاقے کی ازسرِنو ترتیب و تزئین کی جائے گی، جبکہ 1901ء میں تعمیر ہونے والے تاریخی مینار کی بھی بحالی کی جائے گی۔ یہ مینار مینانگ کاباؤ قوم کے روایتی طرزِ تعمیر اور مغل طرزِ معماری کے خوبصورت امتزاج کا مظہر ہے۔
حکام کے مطابق بحالی کا یہ منصوبہ 2026ء کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
انڈونیشی حکومت کا مقصد صرف اس تاریخی مسجد کی جسمانی مرمت نہیں، بلکہ اسے دوبارہ مقامی سماجی اور مذہبی زندگی کا فعال مرکز بنانا بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسجد کے گرد و نواح میں مذہبی، قدرتی اور غذائی سیاحت کو فروغ دے کر مقامی معیشت کو تقویت دینا اور علاقے میں روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنا بھی اس منصوبہ کے اہم اہداف میں شامل ہے۔




