تاریخ اسلام

پانچویں محرم الحرام: حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن کشمکش اور وفاداری کا امتحان

پانچویں محرم الحرام 61 ہجری کے واقعات کربلا کی تاریخ میں حق کے محاصرے، باطل کی سازشوں اور وفاداری کے امتحان کی روشن مثال ہیں۔ اس دن عبیداللہ بن زیاد ملعون نے شَبث بن ربعی اور زجر بن قیس جیسے افراد کو سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے خلاف سرگرم کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ دنیاوی مفادات، خوف اور اقتدار کی خواہش انسان کو حق سے دور کر سکتی ہے۔ دوسری جانب حضرت عامر بن ابی سلامہ‌ علیہ السلام نے تمام رکاوٹوں اور خطرات کے باوجود قافلۂ حسینی تک پہنچ کر وفا، ایثار اور عشقِ حسینی کی لازوال مثال قائم کی۔

پانچویں محرم کا پیغام یہ ہے کہ حق کی اصل طاقت تعداد، اسلحے یا اقتدار میں نہیں بلکہ ایمان، بصیرت، استقامت اور خدا پر توکل میں پوشیدہ ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی ذلت ہے، جبکہ حق کا ساتھ دینا عزت، آزادی اور ابدی کامیابی کا راستہ ہے۔ شَبث بن ربعی، زجر بن قیس اور حضرت عامر بن ابی سلامہ علیہ السلام کے کردار دراصل انسان کے اندر جاری حق و باطل کی دائمی کشمکش کی علامت ہیں، جو ہر دور کے انسان کو اپنے ضمیر، وفاداری اور مقصدِ حیات کے بارے میں فیصلہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی پانچویں محرم کا ابدی درس ہے کہ حق کی خاطر اٹھایا گیا مخلص قدم ہمیشہ زندہ رہتا ہے، جبکہ باطل کی تمام تر قوتیں وقت کے گرد و غبار میں گم ہو جاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button