تاریخ اسلاممقدس مقامات اور روضے

غروبِ آفتابِ امامت — ذی القعدہ کے آخری دن امام جوادالائمہ علیہ السلام کی شهادت

وہ امام جن کا دورِ امامت بچپن کے عالم میں آغاز ہوا — یہ صدرِ اسلام کی تاریخ میں پیروانِ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت، بصیرت اور بلوغِ فکری کو جانچنے کا سب سے بڑا اور نازک ترین الٰہی امتحان تھا۔

ماہِ ذی القعدہ کے آخری روز کی آمد کے ساتھ ہی، مظلومیت اور غربت کی جاں گداز خوشبو ایک بار پھر خاکِ مقدّسِ کاظمین سے اٹھتی ہے، اور عاشقانِ آلِ اللہ کے دل حضرت امام جواد علیہ السلام کی شہادت کے غم میں حزن، ماتم اور عمیق اندوہ کے گھر بن جاتے ہیں۔

امام جواد علیہ السلام کا عہد، تاریخِ اسلام کا انتہائی حسّاس، سرنوشت ساز اور بے مثال دور تھا؛ اس لیے کہ جب پیشرو معصوم کے زمانے میں جغرافیائے تشیع وسعت پذیر ہو رہا تھا اور پیروکار پراکندہ تھے، تو اراداتِ حکیمانہ و بالغہ الٰہی نے یہ چاہا کہ جس طرح حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ سلام اللہ علیہما کی نبوّت تھی، وہی سلسلہ سلسلۂ وصایت میں بھی دہرایا جائے، اور مقامِ عالیِ امامت بچپن کے عالم میں تجلّی پذیر ہو۔

یہ تاریخی مرحلہ شعیوں کے لیے ایک نہایت عظیم اور خطیر آزمائش تھا، تاکہ وہ منصبِ الٰہی ولایت کے تئیں اپنی شناخت و معرفت کا عیار آزمائش کی بھٹّی میں ڈال سکے۔

اس کے ساتھ حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے، جو آپ کے پدرِ بزرگوار تھے، حقیقتِ نوریِ امامت اور اس منصبِ منصوص کے بارے میں پہلے سے جو عمیق، استوار اور روشن گرانہ تبیینات فرما دی تھیں، انھی کی روشنی میں تشنگانِ حقیقت شیعہ، انوارِ رضوی کی رہنمائی سے اس دشوار عقیدتی گھاٹی اور اس کے پیچیدہ شبہات سے سرخروئی اور ثباتِ قدم کے ساتھ گزر سکے۔

امام جواد علیہ السلام نے خلفائے عبّاسی کی فکری یلغاروں کا سامنا کرتے ہوئے، اور اس عہد کے بڑے بڑے دربارِی علماء کی موجودگی میں پیش آنے والے علمی مناظروں میں، علمِ لدنّی، عصمت اور حکمتِ الٰہی کا ایسا بیکراں سمندر جاری فرمایا کہ فقہاء اور حکّامِ زمانہ کی حیرت زدہ عقلیں خضوع و انکسار پر مجبور ہو گئیں۔

یہ شکوہمند تجلّی نہ صرف حاسدین کے مفروضات کا بطلان ثابت کرنے کا باعث بنی، بلکہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے شیعہ کے بلوغِ فکری، تعمیقِ بصیرت اور کمالِ مذہبی کے نقطۂ عطف کے طور پر محفوظ ہو گئی۔

امام حسین علیہ السلام میڈیا گروپ، بابُ المراد کی شہادت کے داغ سے سوگوار دل لیے، اس عظیم ماتم پر منجیِ عالمِ بشریت، حضرت ولیِّ عصر ارواحنا فداہ کی خدمتِ اقدس میں تعزیت پیش کرتا ہے۔

یہ عالمی شبکہ، شعائرِ مقدّسہ کے احیاء کی اپنی خطیر ذمّہ داری کے پیشِ نظر، ان زائران اور دل سوختگان کے ہمراہ — جو امامینِ جوادین سلام اللہ علیہما کے ملک پاسبان آستان پر جمع ہیں — یہ کوشش کرتا ہے کہ اس بے مثال ارادت اور فاخر عزاداری کے جلوؤں کو منعکس کرے، اور اس رہبرِ آسمانیِ کی عزاداری میں اپنا حصّہ ادا کرے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button