امام حسین علیہ السلام کا عالمی پیغام؛ یورپ میں عاشورہ عدل و انسانیت کی مشترکہ زبان بن گیا

یورپ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی مجالس عزا آج محض ایک مذہبی رسم تک محدود نہیں رہیں، بلکہ بین المذاہب مکالمے، پُرامن بقائے باہمی اور انسانی اقدار کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہیں۔
یہ ثقافتی و سماجی اجتماعات مسلمانوں اور غیر مسلموں کی مشترکہ شرکت کے ذریعہ پیغامِ کربلا کو مذہبی حدود سے بالاتر ہو کر پوری دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔
اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:
حالیہ برسوں میں یورپی ممالک میں امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو نمایاں فروغ حاصل ہوا ہے اور یہ مجالس عزا مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ہمدردی، احترامِ باہمی اور یکجہتی کی علامت بن گئی ہیں۔
برطانیہ میں عاشورا کی پہلی باقاعدہ مجلس عزا سن 1962ء میں منعقد ہوئی، جب برطانوی فوج کے سابق کرنل اور شیعہ مذہب قبول کرنے والے عبداللہ ہوبت نے لندن کے عوام کو واقعۂ کربلا اور اس کے پیغام سے روشناس کرایا۔
آج لندن کے ماربل آرچ اور ہائیڈ پارک کے اطراف واقع امام بارگاہوں اور مساجد عراق، لبنان، ایران، پاکستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے مراکز بن چکے ہیں۔ یہاں عزادار موکب برپا کرتے ہیں، عاشورا سے متعلق معلوماتی کتابچے تقسیم کرتے ہیں اور مختلف ثقافتی و سماجی سرگرمیوں کے ذریعہ غیر مسلم معاشرے تک بھی پیغامِ کربلا پہنچاتے ہیں۔
جرمنی، جہاں چالیس لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں، میں عاشورا کی تقریبات صرف مجالس اور عزاداری تک محدود نہیں بلکہ ان کے ساتھ خیراتی مہمات، مستحق افراد میں کھانے کی تقسیم اور بین المذاہب مکالمے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

ایک مسلم سماجی کارکن کے مطابق عاشورا مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور بہتر تفہیم کو فروغ دینے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے بقول یہ مجالس امام حسین علیہ السلام کے اخلاقی پیغام، ظلم کے خلاف مزاحمت اور عدل و انصاف کے قیام کی جدوجہد کو نئی نسلوں تک منتقل کرتی ہیں۔
بلجیم، جہاں 380 سے زائد مساجد فعال ہیں، ہالینڈ کے متعدد شیعہ مراکز و امام بارگاہ، نیز سویڈن اور ڈنمارک میں عوام کی بھرپور شرکت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ثقافتِ عاشورا یورپی معاشروں میں مسلسل اثر و رسوخ حاصل کر رہی ہے۔
اسی طرح ناروے میں بھی امام حسین علیہ السلام کی شخصیت اور تحریکِ کربلا کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ ’’انقلابِ حسینؑ‘‘ کے عنوان سے تعلیمی مباحث کو نصابی سطح پر متعارف کرایا گیا ہے۔
ان ممالک میں عاشورا کی مجالس ایک مذہبی رسم سے بڑھ کر ایک ثقافتی اور سماجی پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں، جہاں ظلم کے خلاف مزاحمت، انسانی ہمدردی، آزادی، رواداری اور عدل و انصاف جیسی آفاقی اقدار کو فروغ دیا جاتا ہے۔
آج امام حسین علیہ السلام یورپ کے قلب میں عدل، آزادی، استقامت اور انسانی وقار کی عالمی علامت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ہر سال پیغامِ کربلا سے متاثر ہونے والوں اور اس کے چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ یہ تقریبات مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمے، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کے نئے مواقع بھی فراہم کر رہی ہیں۔
واقعۂ کربلا کا یہی آفاقی پیغام ہے جو قومیت، زبان، نسل اور مذہب کی سرحدوں سے بلند ہو کر پوری انسانیت کو ظلم کے مقابلے میں حق، انصاف، آزادی اور انسانی کرامت کے تحفظ کی دعوت دیتا ہے۔




